eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
مختصر احکام نماز

Authors: محمد رفیق طاہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز دین ِاسلام کا دوسرا رکنِ عظیم ہے جو کہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن و حدیث میں نماز کو بروقت اور باجماعت ادا کرنے کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر و حضر، میدان جنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت و فضیلت کے متعلق بےشمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں اور بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس سے متعلق کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد و زن کے لیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہو گی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی۔اور ہمارے لیے نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کے مطابق نماز ادا کی جائے گی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ زیر نظر کتابچہ بعنوان ’’مختصر احکام نماز‘‘ فضیلۃ الشیخ ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے اس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ احکام طہارت (وضوء، غسل،مسواک ، تیمم) مساجد،اوقات ِنماز،اذان و اقامت و جماعت کے احکام کو بحوالہ پیش کیا ہے اور صحیح نماز نبوی کا مختصرا شاندار نقشہ کھینچا ہے۔ (م۔ا)

آسان اصول فقہ ( رفیق طاہر)

Authors: محمد رفیق طاہر

In Fiqha

By Al Noor Softs

جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کے لیے اس زبان کے قواعد و اصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طرح فقہ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے کتاب تحریر کی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ زیر نظر کتاب’’آسان اصول فقہ‘‘ شیخ عطیہ محمد سالم ، شیخ عبد المحسن العباد،شیخ حمود بن عقلا کی مشترکہ تصنیف تسهيل الوصول إلى فهم علم الاصول کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب اصول فقہ کو سمجھنے کے لیے آسان ،عام فہم اور بہترین راہنما ہے۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر مولانا محمد رفیق طاہر صاحب نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔(م۔ا)

تکفیر و خروج اور عصر حاضر کی خارجی تحریکیں

Authors: محمد رفیق طاہر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

بنیادی طور پر کوئی بھی مسلمان جب تک وہ علانیہ طور پر دین پر عمل پیرا ہو تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا، تا آنکہ شرعی دلائل کی رو سے اس کا دائرہ اسلام سے خارج ہونا ثابت ہو جائے۔ کیونکہ کسی کو کافر یا فاسق قرار دینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے پاس ہے کیونکہ کسی کو کافر یا فاسق قرار دینا ان شرعی احکام سے تعلق رکھتا ہے جن کی بنیاد کتاب و سنت ہوتی ہے، اسی لئے اس معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے اور صرف اسی کو کافر یا فاسق کہا جائے گا جس کے کافر یا فاسق ہونے کے متعلق کتاب و سنت میں دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تکفیر و خروج اور عصر حاضر کی خارجی تحریکیں‘‘ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ کے فتنۂ تکفیر سے متعلق ان کے سات مضامین کا مجموعہ ہے۔ پہلے چار مضامین میں انہوں نے اس میں تکفیر و خروج سے متعلق شرعی تعلیمات کو بیان کیا ہے اور موجودہ دور کی بعض خارجی تحریکوں کی حقیقت حال بیان کرتے ہوئے ان کے شبہات اور اشکالات کا نہایت عمدہ پیرائے میں علمی جائزہ لیا ہے۔ جبکہ آخری تین رسائل عصرِ حاضر کی معروف خارجی تحریک داعش اور ان کے افکار و نظریات کی تردید پر مشتمل ہیں جن میں داعش کی حقیقت اور ان کے گمراہ کن عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔(م۔ا)

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شرعی و تاریخی جائزہ ( جدید ایڈیشن )

Authors: محمد رفیق طاہر

In Faith and belief

By Al Noor Softs

متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن میلاد مناتے ہیں ۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین رحہم اللہ کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔عید میلاد النبی ؍جشن میلاد کی حقیقت کو جاننے ک لیے اہل علم نےبیسیوں کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ’’ عید میلاد النبیﷺ کا شرعی وتاریخی جائزہ‘‘ معروف محقق ابو عبد الرحمٰن محمد رفیق الطاہر حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔فاضل موصوف نے بڑے محققانہ انداز میں اس مختصر کتابچہ میں ثابت کیا ہےکہ جشن عید میلاد النبیﷺ ایک قبیح بدعت ہے جسکا وجود خیر القرون میں نہیں ملتا۔قارئین اس مختصر کتابچہ سے استفادہ کر کے اس بدعت کی حقیقت اور اس کاشرعی حکم جان اورسمجھ سکتےہیں اس کتابچہ کو جشن میلاد کے قائلین وفائلین کےلیے اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔آمین ( م۔ا)

جشن عید میلاد

Authors: محمد رفیق طاہر

In Knowledge

By Al Noor Softs

مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرمﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کو عملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھامنے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت نبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کو چھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبیﷺ اور جشن مناتے ہیں۔ عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریمﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرامﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریمﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید وجشن کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبیﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔اس بدعت میلاد کے بارے میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن پھربھی برصغیر پاک وہندکے نام نہاد مسلمان اور یورپین ممالک بالخصوص انگلینڈ کے اہل بدعت مولوی اس رسم کے احیا ء و ترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ سادہ لوح عوام کواصل دین تو کیا بتاتے، یہود ونصاریٰ کی نقل میں انہیں چند بےاصل رسومات کا خوگر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور حلال وحرام کی تمیز اتنی اہم نہیں جتنی ان بدعات کی آبیاری اور پاسداری۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جشن عیدمیلاد ‘‘محترم جنا ب ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہو ں نے تاریخی اعتبار اور دلائل ریاضی اور شمسی و قمری تقویم سے ثابت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ ولات 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 9 ربیع الاول ہی ہے۔ اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اس میلاد النبی یا جشن میلاد کا قرون اولیٰ میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ نیراخبار جرائد کے حوالہ جات سے واضح کیا ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اس بدعت کا آغاز بھی چو دہوی صدی ہجری 1352ھ بمطابق بیسویں صدی عیسوی 1933ء میں ہوا۔ اور فاضل مرتب نے اس کتابچہ میں میلاد کے موقع پر شریعت کی کی جانے والی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور آخر میں چند میلادی شبہات کاازالہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کتابچہ میں صفحات نمبرنگ کا مسئلہ ہے کہ ایک ہی نمبر باربار لگا ہوا ہے۔ یہ کتابچہ انڈیاکی ایک اسلامی ویب سائٹ منہاج السنۃ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اپنے موضوع میں مختصر اور مفید ہونے کی وجہ سے اسے کتاب و سنت ویب سائٹ پر پبلش کردیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ ( آمین) (م۔ا)

شریعت اسلامیہ کے محاسن جلد اول

Authors: شیخ عمر فاروق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

محاسن اسلام میں سے کہ اسلام نے ایمانیات عبادات، معاملات اور معاشرت غرضیکہ پوری زندگی کے لیے اس طرح رہنمائی کی ہے کہ ہر شخص چوبیس گھنٹے کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خالق کائنات کی تعلیمات کے مطابق اپنے نبی اکرم ﷺکے طریقہ پر گزارسکے۔ رواداری کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ شریعت اسلامیہ نے کسی بھی غیر مسلم کو مذہب اسلام قبول کرنے پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ صرف اور صرف ترغیب اور تعلیم پر انحصار کیا۔شریعت اسلامیہ نے تمام انسانوں کے ساتھ اخلاق حسنہ سے پیش آنے کی دعوت دی ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، لیکن مسلمانوں کی آپس میں بھائی چارگی پر بھی زور دیا ہے۔ دین اسلام کی خوبیوں میں سے ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ شریعت اسلامیہ نے اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی خصوصی تعلیمات دی ہیں۔اسلام چونکہ اپنے کمالات ومحاسن کے اعتبار سے تمام ادیان سے ممتازہے، ضرورت ہے کہ اس دین کے محاسن اور خصوصیات کو غیروں تک عام کیا جائے تاکہ اسلام کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور شکوک وشبہات کاازالہ ہوسکے۔ زیر نظر کتاب’’شریعت اسلامیہ کے محاسن ‘‘محترم شیخ عمرفاروق رحمہ اللہ کے ہفت روزہ ایشیار میں شائع ہونے والے مضامین کی کتابی صورت ہے۔پہلی جلد 45؍مضامین اور دوسری جلد 69؍مضامین پر مشتمل ہے۔ان مضامین میں مضمون نگار کا مرکزی خیال یہ ہےکہ مسلمان اپنے دین کی طرف راغب ہوں اورایک ہوکر اپنی عظمت رفتہ کو پالیں۔اللہ تعالیٰ شیخ عمر فاروق مرحوم کی قبر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت فرمائے ۔(م۔ا)

الفرقان (سورۃ النساء )

Authors: شیخ عمر فاروق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔ہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ الفرقان سورۃ النساء‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق رحمہ اللہ کی کاوش ہے جوکہ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ النسا ء کےبامحاورہ ترجمہ ، عربی گرائمر ،اورتفسیری نکات پر مشتمل ہے ۔ مرحوم نے کوشش کی ہےکہ عربی نہ جاننے والے قاری حضرات کے ذہنوں میں قرآن کےالفاظ کی بناوٹ اوراس کی لفظی معانی کی سمجھ پیدا ہو اور قرآن کامفہوم اور پیغام بھی ذہن نشین ہوجائے ۔ اس کےلیے انہوں نے الفاظ کےمادے ،اور صیغے بڑے اہتمام سے دیے ہیں اور پورے مضمون کا پیغام سمجھانے کے لیے پہلے خود بہت سے قدیم اور جدید تفاسیر کامطالعہ کیا ہے اور پھر حسب ضرورت اپنے دروس میں مختلف تفسیروں کےاقتباسات درج کیے ہیں ۔بالخصوص تفہیم القرآن ، تدبر قرآن ،فی ظلال القرآن، سے استفادہ کر کے ان کے تفسیری نکات کو اس میں جمع کردیا ہے ۔فہم قرآن کےطلبہ وطالبات کے لیے یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔(م۔ا)

مسلمان بچے ( حصہ اول ) کتاب و سنت کی روشن ہدایات

Authors: شیخ عمر فاروق

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ مسلمان بچے کتاب وسنت کی روشن ہدایات ‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق صاحب کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں قرآن مجید سے بچوں کے متعلقہ تقریباً 550 سے زائدآیات کا انتخاب کر کے اس میں جمع کیا ہے اور ہر آیت کا عنوان قائم کر کے ترجمہ بھی دیا ہے آخر میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے 40 احادیث بحولہ ترجمہ کے ساتھ پیش کی ہیں او ران حادیث کا منظوم ترجمہ بھی دیا ہے تاکہ بچے اسے آسانی یاد کرسکیں اور ان کی قرآن سے محبت بڑھ جائے ۔ان کے اخلاق درست ہوں اور وہ زندگی میں اچھے مسلمان او رکامیاب انسان بن کر پھلیں پھولیں۔عبد القدوس سلفی کی تخریج سے کتاب کی افادیت مزید دوچند ہوگی ہے ۔(م۔ا)

الفرقان سورۃ آل عمران و سورۃ الحجرات

Authors: شیخ عمر فاروق

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ الفرقان سورۃ آل عمران و سورۃ الحجرات ‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق صاحب کی کاوش ہے جوکہ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ آل عمران ، سورۃ الحجرات کے بامحاورہ ترجمہ ، عربی گرائمر ،اورتفسیری نکات پر مشتمل ہے ۔نیز مرتب نےآخر میں آؤ عربی سیکھیں کےعنوان کےتحت15عربی اسباق بھی شامل کیے ہیں۔محترم شیخ عمر فاروق صاحب نے کوشش کی ہےکہ عربی نہ جاننے والے قاری حضرات کے ذہنوں میں قرآن کےالفاظ کی بناوٹ اوراس کی لفظی معانی کی سمجھ پیدا ہو اور قرآن کامفہوم اور پیغام بھی ذہن نشین ہوجائے ۔ اس کےلیے انہوں نے الفاظ کےمادے ،اور صیغے بڑے اہتمام سے دیے ہیں اور پورے مضمون کا پیغام سمجھانے کے لیے انہوں پہلے خود بہت سے قدیم اور جدید تفاسیر کامطالعہ کیا ہے اور پھر حسب ضرورت اپنے دروس میں مختلف تفسیروں کےاقتباسات درج کیے ہیں ۔بالخصوص تفہیم القرآن ، تدبر قرآن ،فی ظلال القرآن، سے استفادہ کر کے ان کے تفسیری نکات کو اس میں جمع کردیا ہے ۔فہم قرآن کےطلبہ وطالبات کے لیے یہ کتاب بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔(م۔ا)