eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
ڈی این اے ٹیسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل
Authors: مختلف اہل علم
انسانی تخلیق میں اللہ تعالی کی جو حکمت، قدرت، تدبیر اور مناسبت کار فرما ہے سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی نئی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں۔ایسے ہی مظاہر قدرت میں جنیٹک سائنس سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ہیں۔انسان کے جسم کا بے شمار خلیات سے مرکب ہونا، ہر خلیہ پر جین کی ایک بہت بڑی تعداد کا قیام پذیر ہونا اور ان جینوں کا انسان کی مختلف صلاحیتوں اور قوتوں پر اثر انداز ہونا کارخانہ قدرت کا ایسا اعجاز ہے کہ جس کا رمز آشنا ایک مسلمان ڈاکٹر کے بہ قول دو ہی صورتوں میں ایمان سے محروم رہ سکتا ہے، یا تو اس کے دماغ میں خلل ہو یا وہ توفیق خداوندی سے محروم ہو۔جنیٹک سائنس جہاں خدا کی بے پناہ قدرت اور اس کی حکمت و تدبیر سے پردہ اٹھاتی ہےاور علاج کے باب میں ایک چراغ امید بن کر آئی ہے، وہاں بہت سارے شرعی مسائل بھی ان تحقیقات کے پس منظر میں پیدا ہو گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ 11 تا 13 مارچ 2006ء میں ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل کے موضوع پر اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)
فتاویٰ برائے کہانت ، جنات ، آسیب
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
فال نکالنے پیش گوئی کرنے ، قیافہ شناس، نجومی غیب کی خبر بتانے والے کو کاہن کہتے ہیں ۔اور کاہن کے عمل کو کہانت کہتے ہیں۔ کاہن کا ذکربائبل میں بکثرت پیشن گوئی کرنے والےکے طور پر آیا ہے، عام زندگی میں اس سے جادوگر مراد بھی لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی کاہن دو دفعہ جادوگر کے معنوں میں ہی آیا ہے۔کاہن، عربی زبان میں جیوتشی، غیب گو، اور سیانے کے معنیٰ میں بولا جاتا تھا، زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا، ضعیف الاعتقاد لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ارواح اور شیاطین سے ان کا خاص تعلق ہے جن کے ذریعہ یہ غیب کے خبریں معلوم کرسکتے ہیں، کوئی چیز کھو گئی ہو تو بتا سکتے ہیں اگر چوری ہوگئی ہو تو چور اور مسروقہ مال کی نشاندہی کرسکتے ہیں اگر کوئی اپنی قسمت پوچھے تو بتا سکتے ہیں ان ہی اغراض و مقاصد کے لئے لوگ ان کے پاس جاتے تھے اور وہ کچھ نذرانہ لیکر بزعم خویش غیب کی باتیں بتاتے تھے اور ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن کے مختلف مطلب ہو سکتے تھے تاکہ ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے۔دین اسلام نے اس کام کوکرنےکی سختی سے تردید کی ہے اور کہانت کا عمل کرنے کروانے کے متعلق سخت وعید بیان کی ہے۔حدیث نبوی ہے : جو شخص عراف (قسمت کا حال اورگمشدہ چیزوں کا پتہ بتانے والے پامسٹ اورنجومی وغیرہ) یا کاہن (علم رمل، علم جعفر اورجادوگر وغیرہ) کے پاس گیا تواس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی۔ایک اور فرمان نبوی ہے کہ جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آیا اوراس کی باتوں کو سچ مانا تو اس نے وحی جو نبی ﷺپر نازل ہوئی اس کا انکار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ برائےکہانت جنات ، آسیب ‘‘ سعودی عرب کے جید مفتیا ن وعلمائے عزام کے جادو، جنات، کہانت کے متعلق جاری کردہ فتاوی جات پر مشتمل کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کتاب میں جنات او ران کے متعلقہ بعض عقدی وعلمی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے اوراس کی مختلف مباحث میں جنات وشیطان سےمحفوظ رہنے کے لیے شرعی اور اد وظائف اور طریقہ ہائے علاج کا بھی تذکرہ کیاگیاہے اورساتھ ہی جادو کے علاج کےلیے اختیار کردہ شیطانی طریقوں سےمنع بھی کیاگیا ہے۔ نیر اس کتاب میں کہانت کی شرعی حیثیت بھی بیان کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مؤلف ، مترجم وناشرین کو جزائےخیر عطافرمائے اوراس کتاب کی تکمیل میں حصہ لینے والے تمام حضرات کے لیے اسے بلندیِ درجات کاسبب بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
ہفت روزہ اہلحدیث لاہور خدمت اہلحدیث نمبر
Authors: مختلف اہل علم
In Fiqha
مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ " ہفت روزہ اہلحدیث لاہور، خدمات اہل حدیث نمبر " مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس میں قیام پاکستان کے 50 سالوں کے حوالے سے پاک وہند میں اھلحدیث کی ہمہ جہت خدمات کا حسین ودلآویز تذکرہ اور ایک تاریخی دستاویز کو جمع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)
’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء
Authors: مختلف اہل علم
In History
مولانا محمد اسحاق بھٹی کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع تھا او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے تھے مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی کی انتھک مساعی اور کوششیں تھیں ۔مولانا مرحوم نے تحریر وتصنیف کے میدان میں بھرپور زندگی بسر کی ۔آپ اپنی زندگی کی 91برس کی بہاریں دیکھ کر مختصر علالت میں مبتلا رہ کر 22 دسمبر 2015ء بروز منگل لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) محترم جناب ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ نے ناصر باغ لاہور میں ان کانماز جنازہ کی امامت کی اور پھر انکے آبائی گاؤں ڈھیسیاں فیصل آباد میں میں بعد نماز عشاء شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم ﷾ نے نماز جنازہ پڑہائی۔ہرجگہ ایک جم غفیر نماز جنازہ میں شریک ہوا اور ہر جگہ اہل علم اوردیندار طبقہ کی کثرت تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانامرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطافرمائے ۔(آمین) زیر تبصرہ مجلہ ’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء‘‘ مورخ اہل حدیث کی حیات وخدمات کے متعلق 356 صفحات پر مشتمل اشاعت خاص ہے۔اس مجلہ میں مولانا اسحاق بھٹی کی حیات وخدمات کے متعلق ملک بھر کے نامور مضمون نگاروں کے قیمتی 45 مضامین شامل ہیں ۔ا ن مضامین میں مولانا کی پیدائش سے لے کر موت تک کے مکمل حالات و واقعات ، تعلیم، ملازمت،صحافتی وتصنیفی خدمات کا تفصیلی تذکرہ ہے۔جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے ذمہ دران کی یہ کاوش انتہائی لائق تحسین ہے کہ انہوں نے مورخ اہل کی حیات وخدمات کو جمع کرکے اسے خوبصورت ضخیم کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے ۔(م۔ا)
ہفت روزہ اہلحدیث لاہور
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ ۱۸؍ مارچ ۱۹۲۰ء بمطابق ۲۶/جمادی الثانی ۱۳۳۸ھ بروز جمعرات، سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم عرصہ آٹھ سال میں مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سرفہرست اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ دورانِ تعلیم سے ہی خطابت میں دلچسپی رکھتے تھے اور گاہے بگاہے منبر خطابت پر اپنے جوہر دکھاتے رہتے تھے۔لیکن ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً تدریس اور خطابت اور مدرسہ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا اسماعیل سلفی کی وفات بعد کے گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ نے نے 1968 ء سے اپنی وفات تک جامعہ محمدیہ کے مہتمم کے منصب کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔حضرت مولانا محمد عبداللہ جماعت اہلحدیث کی صف ِاول کے ایک نامور رہنما، کہنہ مشق مدرّس، ممتاز اور قدآور علمی شخصیت تھے۔ اللہ نے آپ کو ذہن رسا اور کمال استحضارِ علمی سے نوازا تھا، علمی دسترس کی وجہ سے آپ علمی مکالمہ میں خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ مولاناموصوف کو تدریس وخطابت کا فن اپنے اساتذہ خصوصاً مولانا اسماعیل سلفی سے ملا تھا۔ آپ نے عرصہ ۳۱ سال تک اپنے استادِ گرامی کے جاری کردہ درسِ قرآن اور خطبہ جمعہ کو بالاہتمام نبھایا۔ منفرد اور اعلیٰ تدریسی مہارت کے ساتھ ساتھ آپ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ بیان کرنے کا انداز عام فہم، پرمغز، مدلل، موٴثر اور دلنشین ہوتا تھا۔ مولانا عبداللہ مرحوم کو جب علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید نے اپنی جمعیت اہلحدیث کا امیر بنایا جبکہ اس وقت مرکزی جمعیت اہلحدیث موجود تھی تو ان کا تعارف گوجرانوالہ ضلع سے باہر بھی پھیلنے لگا، لیکن مولانا ہمیشہ کی طرح اپنے دورِ امارت میں بھی مثبت اور تعمیری رویہ کے حامل رہے، اور باہم اتفاق و اتحاد کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ چنانچہ علامہ ظہیر کی وفات کے بعد جب دونوں جمعیتیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان اور جمعیت اہلحدیث پاکستان باہم ضم ہوگئیں اور متفقہ نام "مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان" ہی قرار پایا تو متفقہ طورپر آخری لمحات تک اس کی سرپرستی فرماتے رہے۔ مولانا کی علمی اور جماعتی خدمات کی وجہ سے آپ کو انگلستان، سعودی عرب، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات، اردن، شام اور دوسرے ممالک کے تبلیغی دورے بھی کروائے گئے چنانچہ ہر جگہ پر علم و فضل کے ساتھ فصیح و بلیغ خطابت کا لوہا بھی منوایا۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔ زیر تبصرہ مجلہ ’’ہفت روزہ اہل حدیث ‘‘ کی شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ کی وفات پر ان کی حیات وخدمات کےمتعلق اشاعت خاص ہے ۔اس مجلہ میں مولانا موصوف کی پیدائش ، تعلیم ، خطابت ، اساتذہ ،تلامذہ ،جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تدریسی و انتطامی خدمات ،جماعت اہل حدیث کی امارت وسرپرستی ، اور ان کی زند گی کےحالات واقعات کےمتعلق وطن عزیز کے معروف سوانح نگار وں اور قلماکاروں کے مضامین اس اشاعت خاص میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مرقد پراپنی رحمت کی برکھا برسائے اور اسے جنت کا باغیچہ بنائے ۔(آمین)
موجودہ حالات میں سونا اور چاندی کا نصاب
Authors: مختلف اہل علم
اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں سونا اور چاندی بطور کرنسی کے استعمال ہوتے تھے اور ان کی قیمت میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کی قیمت میں بہت زیادہ فرق آ گیا۔آج جب کاغذی
فتاویٰ برائے نظر بد، جادو، حسد
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
جادو کرنا اور کالے علم کے ذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سے محض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو، جنات اور نظر بد سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب و سنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے جادو کا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظر بد ،جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دار کریں اور اس کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہاد جادو گروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’فتاویٰ برائے نظر بد جادو‘‘ فتاوی کمیٹی کبار علماء حرمین شریفین کے نظربد، جادو، حسد کےمتعلق عربی فتاویٰ کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں انسانی معاشرے کے لیے مہلک تین اسباب نظربد، جادو، حسد پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاکہ ہر شخص ان مہلک اسباب سے اجتناب کرے اور معاشرے کےلیے ایک مفید فردبن کرر ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر ان شیطانی جذبات اور اعمال کاسہارا لے کر گمراہی کا شکار ہو جا جائے ۔اس کے علاو ہ اس کتاب میں عالم اسلام کے کبار علماء کرام اور مفتیان کے فتویٰ جات اور تحریرات اور قرآن وحدیث کی روشنی میں حسد، روشنی، نظربد اور جادو کے متعلقہ مباحث بیان کیے گئے ہیں۔ (م۔ا)
عورتوں کے لیے صرف
Authors: مختلف اہل علم
روز مرہ زندگی میں خواتین کو بہت سارے خصوصی مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے بیشتر کاتعلق نسوانیت کے تقاضوں، عبادات اور معاشرتی مسائل سے ہوتا ہے عموماً خواتین ان مسائل کو پوچھنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں جبکہ ان مسائل کا جاننا پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ پاکیزگی اور طہارت کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے معاشرے اور خاندان میں عورت کی اہمیت اور مقام مسلمہ ہے اگر آپ معاشرہ کو مہذب دیکھنا چاہتے ہیں تو عورت کومہذب بنائیں۔ رسول اللہ اکرمﷺ کی زندگی ہر مسلمان ، خواہ مردہو یا عورت ، کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ یقیناً یہ اسلامی تعلیمات کا اعجازی پہلو ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں مردو زن ہرایک کے لیے یکساں طور پر احکام و مسائل کابیان ملتا ہے۔ کیونکہ دین اسلام کی نگاہ میں شرعی احکام کے پابند اور مکلف ہونے نیز اجر و ثواب کے اعتبار سے مرد وزن میں کوئی فرق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عورتوں کے لیے صرف‘‘ عربی زبان میں عورتوں کےاحکام ومسائل پر مشتمل کتاب ’’للنساء فقط‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں خواتین کےلیے روزہ مرہ کے احکام ومسائل یکجا کیے گئے ہیں جو تمام موضوعات کااحاطہ کیے ہوئے ہیں ۔ چونکہ خواتین کے مسائل دریافت کرنے میں عموماً شرم حیا مانع ہوتی ہے اس لیے یہ کتاب خواتین کےلیے نہایت مفید ہے کیونکہ اس میں طہارت، نما ز، زکاۃ، حج، جنائز، لباس وغیرہ کے متعلقہ خواتین کے مسائل کو نہایت شرح وبسط کےبیان کیاگیا ہے۔ علاوہ ازیں اس مجموعہ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عالم اسلام کے جید علماء کرام اور نامور مفتیان عظا کےفتاویٰ کو جمع کیا گیا ہے۔ (م۔ا)
قربانی کے ایام و اوقات
Authors: مختلف اہل علم
ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل ؑ کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا ۔ زیر تبصرہ کتاب " قربانی کے ایام واوقات " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں قربانی کے ایام واوقات کے موضوع پر منعقد ہونے والے 19 ویں فقہی سیمینار میں پیش کئے گئے متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)