eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
مسلمانوں میں پھیلائی جانے والی جھوٹی بشارتیں
Authors: مختلف اہل علم
دین اسلام دین فطرت ہے، اسلام بہترین عقیدے، خوبصورت اخلاق اور اعلی ترین صفات اپنانے کی دعوت دیتا ہے، اسلام انسان کے جذبات کا خیال رکھتا ہے، اپنے حال سے خوش رہنے اور مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ کی ترغیب دیتا ہے۔لوگوں کو مسرور کرنے والی باتیں بتلانا اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ اور مومنوں کو خوشخبری دیں۔[البقرة: 223] بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو بھی اس سی سے سے متصف قرار دیا ،اور چونکہ بشارت کی دل میں بڑی منزلت ہے اس لیے فرشتے اسے لے کر آئے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى﴾بلاشبہ ہمارے پیغام رساں ابراہیم تک خوشخبری لے کر پہنچے۔ [هود: 69] اور رسولوں کی بعثت کا مقصد بھی اللہ کے مومن بندوں کو بشارت دینا بھی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ﴾اور ہم رسولوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں۔[الأنعام: 48]دین اسلام میں مسلمانوں کے لئے متعدد بشارتیں ہیں،لیکن جھوٹی بشارتیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے،گھڑنے، لکھنے اور بانٹنے اوران کی طرف دعوت دینے والے اور اسے مسلمانوں کے درمیان پھیلانے والے سب گناہ گار ہونگے ۔ زیرنظر کتاب’’ مسلمانوں میں پھیلائی جانے والی جھوٹی بشارتیں ‘‘ میں شیخ شخبوط حفظہ اللہ نے کچھ ایسے امور پر ردّ کیا ہے کہ جنہیں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کےلیے لوگوں نےگھڑ کر دین یا صاحب شریعتﷺ کی طرف منسوب کیا ہے۔ ان میں شیخ احمد کا خواب او راس طرح کی دیگر جھوٹی کہانیاں اور بشارتیں شامل ہیں ۔ شیخ شخبوط نے کتاب ہذا کو شیخ ابن باز، علامہ محمد بن صالح العثیمین، شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن جبرین رحمہم اللہ اور شیخ صالح بن فوزان بن الفوزان حفظہ اللہ کے فتاوی جات سے استفادہ کر کے مرتب کیا ہے۔(م۔ا)
مجلہ بحر العلوم گمنام محدث نمبر
Authors: مختلف اہل علم
In History
تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگاری کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیرنظرکتاب ’’گمنام محدث نمبر‘‘ جامعہ بحر العلوم ،میرپور خاص (سندھ) کا ترجمان مجلہ ’’ بحر العلوم ‘‘ کی اشاعت ہے ۔یہ اشاعت خاص مدرسہ زبیدیہ دہلی انڈیا کے فاضل اور وادی سندھ میرپور خاص کےعظیم گمنام محدث ومبلغ ومربی استاد علامہ ابو الطاہر محمد یوسف زبیدی رحمہ کی سوانح،شخصیت،خدمات ،فتاویٰ،نوادرات،خطوط ،انٹرویو،نادرتحریریں، اور انکے متعلق نامور علماء کےتاثرات پر مشتمل ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی قبراپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے ۔ مجلہ بحر العلوم اس سے قبل سید محب اللہ شاہ راشدی،سید بدیع شاہ راشدی، مولانا قاری عبد الخالق رحمانی رحمہم اللہ کےمتعلق بھی خاص نمبر شائع کرچکا ہے۔اللہ تعالیٰ مجلہ کے منتظمین کی وجود کو قبول فرمائے ۔آمین(م۔ا)
اقوال الشیعہ تصویری ثبوت کے ساتھ
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، اس فرقہ کی تین قسمیں ہیں غالیہ،زیدیہ، رافضہ اور ہر ایک کے مختلف فرقے ہیں ۔ شیعہ کے باطل نظریات کو عوام الناس پر عیاں کرنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔شیعہ فرق کے باطل عقائد، افکار ونظریات کو ہر دور میں علمائے حق نے آشکار کیا ہے ۔ ماضی قریب میں فرق ضالہ کے ردّ میں شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تقریر ی وتحریری، دعوتی وتبلیغی اور تنظیمی خدمات کو قبول فرمائے اوران کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس عطا کرے۔ زیر نظر کتاب’’ اقوال شیعہ تصویری ثبوت کے ساتھ ‘‘مرکز احیاءتراث آل لبیت کی مرتب کردہ ہے۔ کتاب ہذا مذہب شیعہ کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جس کے مطالعہ کے بعد قاری باآسانی شیعہ مذہب کی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔ شیعہ مذہب کی تاریخ ،نظریات واعتقادات اور عزائم کو جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت موزوں ہے۔ (م۔ا)
پند روزہ صحیفہ اہل حدیث ’’ حدیث نمبر ‘‘ 1952ء
Authors: مختلف اہل علم
صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہدصحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کا اظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعتِ رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث کا انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلتی رہی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد ّمیں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی وغیرھم کی خدمات قابل ِتحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے ردّ میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیرنظر’’ حدیث نمبر‘‘پندروزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی کی تاریخ حدیث ،حجیت حدیث واہمیت حدیث پر اشاعت خاص ہے۔یہ اشاعت خاص تقریبا70؍سال قبل شائع ہوئی۔یہ مارچ تامئی1952ء کا شمارہ ہے جوکہ تقریبا 90مختلف اہل قلم کی تاریخ حدیث ،حجیت حدیث واہمیت حدیث سے متعلق تحریروں کا مجموعہ ہے ۔(م۔ا)
حصن التوحید
Authors: مختلف اہل علم
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصدِ زندگی ہے جو صرف اور صرف توحیدِ خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ اورآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب’’حصن التوحید‘‘سعودی عرب کے معروف وممتاز علماء کرام فضیلۃ الشیخ عبد الرحمٰن السعدی، سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز، فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین، فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن الجبرین، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ناصر بن عبد الکریم العقل رحمہم اللہ عقیدۂ توحید کے موضوع علمی مقالات کااردو ترجمہ ہے۔اس مجموعۂ توحید میں عقیدۂ توحید کی اہمیت اور اس کے منافی امور کا تفصیلی ذکرکیا گیا ہے۔نیز معاشرہ میں رائج فاسد عقائد کی نقاب کشائی اور اہل شرک کے باطل دعووں او رشبہات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔نیزجولوگ قصوں ، کہانیوں اور خوابوں پر اعتماد کرتے ہیں اور قبروں پر جانے سے اپنی حاجات کے پورا ہونے سے اپنے شرک کے صحیح ہونے پر استدلال کرتے ہیں اس کی سیر حاصل تردید کی گئی ہے۔مولانا عبد الولی عبدالقوی حفظہ اللہ (مکتب دعوۃوتوعیۃالجالیات،سعودی عرب )نے اس رسالہ کی افادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔مترجم نے اس کی ترجمانی میں اسلوب انتہائی سہل اورآسان اختیار کیا ہے تاکہ ہرخاص وعام کم پڑھے لکھے لوگ بھی بآسانی مستفید ہوسکیں ۔اور خودکو اعتقادی خرابیوں سے بچاسکیں۔اللہ تعالی اس کتاب کے مؤلف،مترجم اور ناشرین کی اس کاو ش کو قبول فرمائے ، ان کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اور عامۃ الناس کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ فاضل مترجم کتاب ہذا کے علاوہ درجن کے قریب کتب کے مترجم و مصنف ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تمام تحقیقی وتصنیفی اور تبلیغی خدمات کو قبول فرمائے آمین(م۔ا)
سرمایہ داری کا مستقبل
Authors: مختلف اہل علم
زیر نظر کتاب’’سرمایہ دارِی کا مستقبل‘‘ پانچ مغربی مصنفین(عمانویل الرسٹائن، رنڈل کولنز، مائیکل مین، جارجی درلوگاں کریگ کلہون) کی مشترکہ تصنیفDoes Capitalism Have a Future? کا اردو ترجمہ ہے ۔تفہیم مغرب کے سلسلہ میں جناب صابر علی صاحب نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے افادۂ عام کے لیے پیش کیا ہے۔اس کتاب میں مذکورہ پانچ ماہرین سماجیات تاریخ عالم کے اپنے اپنے علم کی بنیاد پر اپنے اپنے انداز میں بحث کرتے ہیں کہ آنے والے دور میں کیا چیلنج اور مواقع پیدا ہوں گے ۔ کتاب ہذا میں حسب ِذیل عنوانات قائم کر کے (سرمایہ داروں کے لیے سرمایہ دار منافع بخش کیوں رہے گی۔مڈل کلاس کا خاتمہ ،خاتمہ قریب ہو سکتا ہے لیکن کن کےلیے ؟کمیونزم کیاتھا؟اب سرمایہ داری کو کیا خطرات ہیں؟) سرمایہ داری کے مستقبل کو پیش کیا گیا۔ (م۔ا)
ماہنامہ الاتحاد ممبئی عظمت صحابہ نمبر
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
صحابہ کرام کی عظمت سے کون انکار کرسکتاہے۔یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔لیکن اس پر فتن دور میں بعض بدبخت لوگ ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوکر اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کودعوت دیتے ہیں ۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے، سوانح حیا ت، عظمت ودفاع سے متعلق ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں۔زیر نظر مجلہ ’’ماہنامہ الاتحاد ممبئی کا عظمت صحابہ نمبر ہے۔یہ مذکورہ ررسالے کا اکتوبر ؍نومبر 2019ء کا شمارہ ہے جو کہ 188 صفحات پر مشتمل ہے۔ مدیر مجلہ ہذا جناب بلال ہدایت سے نے صحابہ کرام کی عظمت ورفعت سےمتعلق مختلف اہل قلم کے تقریبا چالیس مضامین کو بڑے احسن اندازمیں مرتب کردیا ہے۔ان مضامین میں صحابہ کرام کے حوالے سے اہل سنت والجماعت کے موقف کوواضح کیا ہے اور قرآن واحادیث کےناقلین کی عظمت ورفعت کوعیا ں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس خاص نمبر کو مرتب وشائع کرنے والے جملہ احباب کی مساعی کو قبول فرمائے ۔ اور ہمیں صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کوسمجھنے اوران کی مبارک زندگیوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین) (م۔)
ہفت روزہ اہلحدیث ( شیخ الحدیث نمبر )
Authors: مختلف اہل علم
In History
شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ(1920ء-2001ء) بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سے سرفہرست اُستاذ الاساتذہ مولانا حافظ محمد گوندلوی ہیں۔ ان سے آپ نے مشکوٰة المصابیح، موطأ امام مالک، ہدایہ، شرح وقایہ، مسلم الثبوت، شرح جامی، اشارات، کافیہ اور صحیح بخاری پڑھیں۔آپ کے دوسرے نامور استاد شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ہیں جن سے آپ نے جامع ترمذی، سنن نسائی، ابوداود اور صحیح مسلم کے علاوہ مختصر المعانی اور مطوّل وغیرہ کا علم حاصل کیا۔ ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً مدرسہٴ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغازتدریس آغاز کیا۔ مولانا اسماعیل سلفی کی وفات (۱۹۶۸ء)کے بعد گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔۲۸؍اپریل ۲۰۰۱ء کو صبح چھ بجے گوجرانوالہ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ان کی نماز جنازہ سہ پہرساڑھے پانچ بجے شیرانوالہ باغ میں پڑھی گئی جو گوجرانوالہ شہر کی تاریخی نماز جنازہ تھی۔ جس میں بلا امتیاز ہر مکتب ِفکر کی مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی .مولانا مرحوم کی حیات وخدمات سےمختلف اہل قلم نے متعدد مضامین تحریر کیے جو مختلف جماعتی رسائل میں طبع ہوئے ۔ زیر نظر ’’ شیخ الحدیث نمبر‘‘ مرکز ی جمعیت اہل حدیث کے ترجمان رسالہ ہفت روزہ اہل حدیث کی مولانا شیخ الحدیث محمد عبد اللہ کی مجاہدانہ خدمات، حلالت علمی اور مساعی جمیلہ سے متعلق د وصفحات پر مشتمل اشاعت خاص ہے۔اس اشاعت خاص میں شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ کی زمانہ طالب علمی، تدریسی سفر، آغاز خطابت، اتباع کتاب وسنت، حق گوئی وبےباکی، امانت ودیانت، مناظرانہ گرفت،جماعت میں مثالی اورسیاست میں قائدانہ کردار۔قوت استدلال، جذبہ ایثاررووفا،حالات حاضرہ پر گہری نظر، علمی وجاہت، خود اعتمادی اور غیر ملکی تبلیغی اسفار جیسے دیگر بیسیوں موضوع اس خصوصی اشاعت میں سمیٹ دئیے گئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔(م۔ا)
الانتقاد اشاعت خاص امام ابو الطیب شمس الحق عظیم آبادی
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
علامہ شمس الحق عظیم آبادی( 1273ھ ؍ 1857ء -1911ء ؍ 1329ھ) عالم اسلام کے مشہور عالم، مجتہد و محدث تھے۔ وہ عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا شمار سید نذیر حسین محدث دہلوی اور شیخ حسین بن محسن یمانی کے خاص تلامذہ میں ہوتا ہے۔ وہ اہل حدیث مسلک کے اکابر علما میں نمایاں مقام کے حامل تھے۔ ان کی تصانیف حدیث سے پورے عالم اسلام نے استفادہ کیا اور حدیث کا کوئی طالب علم ان کی خدمات سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پٹنہ کے اطراف میں واقع ایک بستی ڈیانواں میں گزرا اسی لیے انہیں ’’ محدث ڈیانوی ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور وہ ڈیانوی کی صفت نسبتی سے بھی معروف ہیں ۔ موصوف کی مشہور تصانیف میں ’’ غایۃ المقصود شرح سنن ابی دادو ‘‘، ’’ عون المعبود علی سنن ابی داود ‘‘، ’’ التعلیق المغنی شرح سنن الدارقطنی ‘‘، ’’ رفع الالتباس عن بعض الناس ‘‘، ’’ اعلام اھل العصر باحکام رکعتی الفجر ‘‘ وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کا انتقال مارچ 1911ء / 1329ھ کو ڈیانواں میں ہوا۔کئی اہل علم سوانح نگاروں نے علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی حیات وخدمات کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الانتقاد ‘‘ مولانا محمد تنزیل الصدیقی الحسینی صاحب (مدیر مجلہ الواقعہ ،کراچی ) کےکتابی سلسلے ’’ الانتقاد ‘‘ کا پہلا شمارہ اگست 2010ء ہے جو کہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی حیات وخدمات پ مشتمل ہے۔ تنزیل الصدیقی صاحب نے اس اشاعت خاص میں محدث عظیم آبادی کی زندگی کےایسے کئی گوشے جمع کردئیے ہیں جو پہلی بار یکجا قرطاس ِابیض پر منتقل کیے گئے ہیں ان کی زندگی کےمختلف گوشے،ان کی تصانیف کی تعداد، ان کےتلامذۂ کرام كا تذکرہ اس اشاعت خاص میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ محدث ڈیانوی کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔آمین (م۔ا)