eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
علم النحو
Authors: مشتاق احمد چرتھاولی
In Knowledge
جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ زیر نظر کتاب ’علم النحو‘ بھی اس سلسلہ کی ایک اہم کتاب ہے جو مدارس کی ابتدائی کلاسوں کے طلبہ کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ اور اکثر پاکستانی مدارس میں طلبہ کو یہی کتاب سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا مشتاق احمد چرتھاولی ہیں جنھوں نے نہایت آسان انداز میں قواعد نحو کو ترتیب دیا ہے۔ یہ کتاب بہت سالوں قبل لکھی گئی اس لیے اس کا اسلوب بھی خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ دور جدید کے علما نے علم نحو و صرف پر جدید انداز میں کتب تالیف فرمائی ہیں جن کی اہمیت و افادیت اس کتاب سے بھی بڑھ کر ہے۔(ع۔م)
علم الصرف آخرین
Authors: مشتاق احمد چرتھاولی
In Knowledge
جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سےایک مختصر کتاب تصنیف فرمائی۔ پیش نظر کتاب ’علم الصرف اخیرین‘ اسی کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔(ع۔م)
علم الصرف اولین
Authors: مشتاق احمد چرتھاولی
In Knowledge
جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلی اور کثیر آبادی اسلام کے سایہ امن و عاطفت میں آئی تو قرآن مجید کا سمجھنا، حدیث سے واقف ہونا، نت نئے مسائل کا استنباط کرنا اور بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فرض انجام دینا علمائے کرام کے لیے فرض لازم ٹھیرا۔ اس کے لیے نہ ترجمہ کافی تھا، نہ عربی زبان کی سرسری واقفیت کام دے سکتی تھی بلکہ اس سے ایسی گہری فنی واقفیت ضروری تھی جس کی بدولت غلطی کا امکان کم سے کم اور کتاب وسنت کے علم و فہم اور صحیح ترجمانی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت پیدا ہو، اس مقصد کے تحت عربی کے قواعد و ضوابط پر کامل عبور شرط لازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب صرف و نحو کی تدوین اور اس سلسلے میں کتابوں کی تصنیف کی ضرورت پیش آئی۔ اس سلسلہ میں جہاں عربی علما نے بہت سی قیمتی تصنیف فرمائی وہیں عجمی علما بھی ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہے اور صرف و نحو کے قواعد پر مشتمل بیش بہا کتب تحریر فرمائیں۔ یاد رہے کہ فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے، شروع میں اس کے مسائل نحو ہی کے تحت بیان کیے جاتے تھے۔ مولانا مشتاق احمد چرتھاولی نے علم نحو پر کتاب تالیف فرمائی تو اس کو مدارس نے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کے بعد انھوں نے ’علم الصرف‘ کے نام سے زیر نظر کتاب تصنیف فرمائی۔یہ قواعد صرف پر مشتمل ایک اہم تصنیف ہے جس میں صرف کے قواعد کی تفہیم کے لیے نہایت آسان انداز اختیار کیا گیا ہے تاکہ مدارس کے ابتدائی جماعتوں کے طلبا اس سے کسی مشکل میں پڑے بغیر استفادہ کر سکیں۔ (ع۔م)
عربی گفتگو نامہ
Authors: مشتاق احمد چرتھاولی
In Darse Nizami
ہدایت انسانی کےلیے اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ پر دو چیزوں کو نازل کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا''اعطیت القرآن ومثلہ معہ''مجھے قرآن اور اس کی مثل ایک اور چیز(یعنی حدیث)دے کر بھیجا گیا ہے اور انہی دو چیزوں کے واسطے نبی کریم ﷺ نے لوگو ں کو اللہ تعالی کا پیغام سنایا-یہ دونوں چیزیں عربی میں ہے اس لیے ان کو سمجھنے کےلیے عربی زبان کا آنا ضروری ہے -اس ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کتابچہ آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے جس میں روز مرہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کو عربی میں استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے مطالعے سے آدمی عربی زبان بولنے پر فائز ہوسکے -یہ کتابچہ بہت عمدہ ہے ضرور اس کا مطالعہ فرمایئے گا
احکام ومسائل رمضان المبارک .. رمضان کیسے گزاریں..؟
Authors: محمد علی جانباز
رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک ہی وہ مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔ کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ احکام ومسائل رمضان المبارک .. رمضان کیسے گزاریں..؟ ‘‘ شیخ الحدیث شارح سنن ابن ماجہ مولانا محمد علی جانباز کی کاوش ہے جو انہوں نے ان کے ایک معتقد حاجی مقصود احمد کی فرمائش پرمرتب کیا اور اس میں رمضان المبارک کے ضروری مسائل واحکام کو قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔(م۔ا)
احکام طلاق
Authors: محمد علی جانباز
شریعتِ اسلامیہ کے عائلی قوانین میں نکاح وطلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ عائلی قوانین کے مرکزی واساسی اہمیت کے حامل یہی دو رکن ہیں۔ خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔ نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں‘ اردو زبان میں ان دو عنوانات پر کئی ایک کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن کسی بھی کتاب میں سیر حاصل گفتگو موجود نہیں ہے ۔زیرِ تبصرہ کتاب میں طلاق کے احکامات کے ساتھ ساتھ خلع‘ لعان‘ ظہار‘ ایلاء اور احکام عدت کے مسائل بھی شامل کر دیئے گئے ہیں تاکہ ان مسائل سے بھی آگاہی حاصل ہو جائے۔ اس کتاب میں طلاق کے لفظی واصطلاحی مفاہیم اور باقی مذاہب کی روشنی میں ان کا مفہوم بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے اور مسالک کو بھی بیان کیا گیا ہے اور مجلس واحد کی تین طلاقوں کے ثبوت وغیرہ کی اہم مباحث بھی کتاب کی زینت ہیں۔ یہ کتاب’’ احکام طلاق ‘‘ مولانا محمد علی جانباز کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار
Authors: محمد علی جانباز
In Knowledge
تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہیں جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھیں ۔1930 ءمیں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوں نے قافلے کی صورت سفر کرکے شرکت کی اور ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق مسلمانان ہند انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی علیحدہ ریاست چاہتے تھے ۔ لیکن افسوس کہ آج جب ایک عام پاکستانی اپنے روز مرہ کے معاملات کے سلسلے میں حکومت کے مختلف اداروں سے رابطہ کرتا ہے تو قدم قدم پر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔اسے یقین ہو جاتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا دو قومی نظریہ جس نے ہندو اور انگریز کو شکست دے کر پاکستا ن قائم کیا تھے،ہمارے سرکردہ رہنماؤں اور صاحب اقتدار حکمرانوں نے اس کی قدر کرنے کی بجائے اسے ذلیل وخوار کر کے رکھ دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار " پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث محترم مولانا محمد علی جانباز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے اسی نظریاتی پس منظر کو تفصیل سے بیان کرتے موجودہ صورتحال کو واضح کیا ہے۔(راسخ)
دوران خطبہ جمعہ دو رکعت تحیۃ المسجد کاحکم
Authors: محمد علی جانباز
مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا کرنے کو تحیۃ المسجد کہتے ہیں۔ اوقات مکروہہ کے سوا ہر وقت پڑھ سکتے ہیں۔ ور یہ نماز مسجد میں داخل ہونے والے ہر شخص کے حق میں بالاجماع سنت ہے ۔حضرت قتادہ ؓسے مروی حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :’’جو شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔‘‘تحیۃ المسجد پڑھنے سے دل میں مسجد کا احترام پیدا ہوتاہے ،یہ بمنزل سلام کے ہے کہ آدمی جب کسی کے گھر جاتا ہے تو گھر والے کوملتے وقت سلام کہتا ہے۔امام نووی ؒفرماتے ہیں :کہ بعض نے تحیۃ المسجد کو مسجد کے رب کو سلام قرار دیا ہے ،کیونکہ اس کامقصدحصول قرب الہی ہے نہ کہ حصول قرب مسجد، جیسا کہ بادشاہ کے گھر میں داخل ہونے والا بادشاہ کو سلام عرض کرتا ہے نہ کہ اس کے گھر کو۔جب آدمی مسجد میں داخل ہو اور خطیب خطبہ جمعہ دے رہا ہو تو اس کے لئے تحیۃ المسجد ادا کرنا مسنون ہے ،اور ترک کر دینا مکروہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دوران خطبہ جمعہ دو رکعت تحیۃ المسجد کاحکم ‘‘ شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز کی علمی کاوش ہے ۔یہ کتاب دراصل مولانا کےان مضامین کی کتابی صورت ہےجوانہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی کےحکم پر عامر عثمانی مدیر ماہنامہ ’’ تجلی ‘‘ دیو بند کے جواب میں دورانِ خطبہ جمعہ دور کعت تحیۃ المسجد پڑہنے کے اثبات میں تحریر کیے جو ہفت روزہ الاعتصام میں 13 اقساط میں شائع ہوئے ۔ بعد ازاں قارئین کےاصرار پر مولانا مرحوم نے ہفت روزہ الاعتصام میں مطبوعہ مضامین کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)
آل مصطفٰی ﷺ
Authors: محمد علی جانباز
نبی کریم ﷺ کی آل اور اہل بیت کے بارے میں امت میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔جبکہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک صحیح بات یہی ہے کہ اس سےمراد رسول اللہ ﷺکے وہ رشتے دار مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ان میں آپ کی ازواج مطہرات اور اولاد اور عبد المطلب کی نسل میں سے ہر مسلمان مرد وعورت جنہیں بنو ہاشم کہا جاتا ہے،شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا﴾ (الاحزاب: 33)(اے(پیغمبر کے) اہلِ بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی(کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے)۔ زیر تبصرہ کتاب " آل مصطفیﷺ "پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث محترم مولانا محمد علی جانباز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل بیت کی تعیین کے حوالے سے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو فرمائی ہے ۔اس کتاب میں مولف موصوف نے بیان فرمایا ہے کہ اہل بیت کون ہیں؟ اہل سنت والجماعت کا اہل بیت کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟ قرآن وسنت میں اہل بیت کے بارے میں کیا فضائل وارد ہوئے ہیں؟ صحابہ کے نزدیک آل بیت کا کیا مقام ومرتبہ تھا ؟وغیرہ جیسے موضوعات کے بارے میں تفصیلى معلومات اس کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)