eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
حقیقت زکوۃ ، اسلام میں گردش دولت

Authors: سید ابو بکر غزنوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا ہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دین اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ﷺ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ ’’ حقیقت زکاۃ ‘‘ برصغیر پاک وہندکے مشہور عالم دین مفسر قرآن مولانا بو الکلام آزاد کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے زکاۃ کی فرضیت واہمیت ،فضیلت ،ادائیگی زکاۃ کے فوائد اور زکوۃ کے جملہ احکام مسائل کو بیان کرنے کےبعد قرآن اور سوشلزم کے عنوان سے بھی بحث کی ہے ۔اور اس کتاب کے آخر میں زکاۃ کے حوالے سے مولانا سید ابو بکر غزنوی  کا رسالہ بعنوان ’’اسلام میں گردش دولت ‘‘بھی شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالی زکوۃ ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے اہل اسلام کو اسے ادا کرنے کی توفیق دے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو اور اسلامی معاشرہ میں غربت وافلاس کا خاتمہ ہوسکے ۔(م۔ا)

مولانا داؤد غزنوی

Authors: سید ابو بکر غزنوی

In Arguments

By Al Noor Softs

مولانا محمد داؤد غزنوی 1895 میں امرتسر میں پیدا ہوئے ـ آپ حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی ؒ کے صاحبزادے تھے ـ آپ نے '' صرف ونحو ، حدیث وتفسیر'' اپنے والد بزرگوار سے پڑھی ـ فقہ اور اصولِ فقہ حضرت مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری  سے پڑھی ـ فراغت کے بعد اپنے ہی بزرگوں کے قائم کردہ مدرسہ '' مدرسہ غزنویہ '' میں پڑھاتے رہے ـ 1919ء میں آپ نے سیاسی زندگی میں قدم رکھا ـ مدتوں آپ '' احرار'' کے ناظم اعلی ، جمعیہ العلماء کے نائب صدر اور کانگریس پنجاب کے صدر رہے ـتقسیم ہند کے بعد جماعت اہل حدیث کو شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی  کی رفاقت و معیت مین منظم کیا ـ فیصل آباد میں ایک مرکزی تعلیمی ادارہ '' جامعہ سلفیہ '' کی بنیاد رکھی ـ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اسلامی نظام کے حق میں اسمبلی کے اجلاسوں میں پرزور تقریریں کی ـ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کی نصاب کمیٹی کے رکن رہے ـ 1953ء میں جب تمام مکاتب فکر کے 31 علمائے کرام نے 22 نکات پر مشتمل ایک دستوری خاکہ مرتب کیا تو مولانا غزنوی  بھی ان میں شامل تھے ـ شاہ سعود  نے رابطہ عالم اسلام کمیٹی اور مدینہ یونی ورسٹی کی مجلس مشاورت کا ممبر مقرر کیا ـ تحریک ختم نبوت '' مجلس عمل '' نے جسٹس منیر کے سوالات کا جواب دینے کے لیے مولانا غزنوری  ہی کو پنا وکیل مقرر کیا ـ قبل از تقسیم امرتسر میں ماہنامہ '' توحید '' جاری کیا ، جو علم و فضل کا شاہکارتھا مولانا غزنوی ہر ایک مکتب فکر کے بزرگ کی عزت کرتے ـ آئمہ دین سے انتہائی محبت رکھتے تھے ـ ان کی خدمات کو سراہتے تھے ـ ان کے حق میں بے ادبی کو سوء خاتمہ کی دلیل سمجھتے تھے –مولانا غزنوی  نہایت خوش اخلاق ، ملنساد اور مہمان نواز تھے ـ اتحاد بین المسلمین کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ـ یہ علم وفضل ، زہد و تقویٰ ، مذہب و سیاست کا بحربیکراں اور اتحاد و اتفاق کے علمبردار نے 16 دسمبر 1963ء کو وفا ت پائی ـ زیر نظر کتاب مولانا داؤد غزنوی کی حیات وخدمات پر اہم کتاب ہے جس میں نصف حصہ مولانا غزنوی کی وفات پر نامور علماء کے لکھے کے مضامین کا مجموعہ ہے جسے مولانا ابوبکر غزنوی ﷫نے مرتب کیا ہے اور نصف حصہ مولانا ابو بکر غزنوی کاتحریر کردہ اپنے خاندان اوروالد گرامی مولانا داؤد غزنوی کے حیا ت وخدمات پر ''سید وابی'' کے نام سے جامع تذکرہ ہے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔(م۔ا)

خطبات جہاد

Authors: سید ابو بکر غزنوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

1965ء میں ہندوستان نے پاکستان پر جب چہار طرف سے حملوں کی بوچھاڑ کر دی تو بہت سارے مصلحین اسلام اور پاکستان نے تحریر و تقریر کے ذریعے سے عوام پاکستان میں جہادی رمق بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اس معرکہ حق و باطل میں بالآخر باطل نابود ہوا اور حق کو فتح نصیب ہوئی۔ زیر مطالعہ کتاب اسی دور کے ان خطابات پر مشتمل ہے جو پروفیسر ابوبکر غزنوی ؒ نے ارشاد فرمائے۔ جس میں انہوں نے کتاب وسنت کی صریح نصوص کے ذریعے جہاد کشمیر کی فرضیت و اہمیت اور ترک جہاد کی ذلت و رسوائی کو بیان کیا۔ مولانا نے تمام مسائل کا حل جہاد ہی میں مضمر قرار دیا۔ جہاد کشمیر سے متعلق ہمارے معاشرے میں بہت سے مختلف آراء گردش کرتی ہیں یہ کتاب کسی حد تک جہادکشمیر کے متعلق شبہات کو واضح کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

بچوں کے اسلامی ناموں کا انسائیکلوپیڈیا

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو چیز بھی پیدا کی ہے خواہ وہ انسان ہو جاندار، بے جان ۔غرض ہر چیز کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے ، اور نام انسان کی شناخت کاسب سے اہم ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم﷤ کو بھی سب سے پہلے ناموں کی تعلیم دی تھی جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔ اور بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو نام رکھا اس کامطب معانی کیا ہے اور یہ کس زبان سے ہے حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔اچھے ناموں سے بچے کی شخصیت پر نہایت مثبت اور نیک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ زير نظر كتاب ’’ اسلامی ناموں کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری (مصنف ومترجم کتب کثیرہ) اور حافظ زبیر الرحمٰن کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب میں اسلامی معیار تسمیہ کا خیال رکھ کر مرتب کی گئی ہے ۔ نیزاس میں اسلامی ناموں کے مجموعے کو مرتب کرنے کےساتھ ساتھ بچوں کے حقوق کوبھی مختصراً آغازِ کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پانے والے خوش نصیب

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسان ہر لمحہ کر سکتا ہے اور اپنے خالق و مالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کروا سکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کے آداب و شرائط کو بھی ملحوظ رکھے۔ زیر نظر کتاب ’’ دعائے رسول ﷺ پانے والے خوش نصیب‘‘مولانا محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔موصوف نے اس کتاب میں ایسی خوش نصیب ہستیوں،مقامات، قبائل وغیرہ کے متعلق مواقع پر آپ ﷺ کی طرف سے کی جانے والی دعاؤں کو جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تدرسی و ددعوتی اور تحقیقی و تصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)

اصطلاحات

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Arguments

By Al Noor Softs

اصطلاح کسی قوم کا کسی شے کے نام پر اتفاق کر لینا ہے جو کہ اس کے پہلے معنی موضوع سے منتقل کر دے اور لغوی معنیٰ کی بجائے کسی مناسبت کے باعث دوسرے معنی مراد لینا ہے۔اوراصطلاحات وہ مفرد اور مرکب الفاظ ہیں جو مخصوص پس منظر میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اصطلاحات کا وضع کرنا حقائق کی تخلیق یا اظہار کا نام نہیں بلکہ ادنیٰ یا اعلی ٰموجو د اتِ ذہنی و مادی کو مخصوص الفاظ کے ساتھ معروف کر نے کا نام ہے۔بسا اوقات بالکل عام اور سطحی باتیں اور ادنی ٰ انسانی جذبات وخواہشات کو سنہری اصطلاحات کے ذریعے مستورمگر مقبول کیا جاتا ہے جیسا کہ جدید انتظامی علوم انہی اصطلاحات کا مجموعہ ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ اصطلاحات ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) کی منفرد کاوش ہے ۔فاصل مصنف نے اس کتاب میں اہم علوم کی بنیادی اصطلاحات جمع کردی ہیں ۔جن کے مطالعہ سے کوئی بھی شخص بآسانی ان علوم کی ابجد سے واقف ہوسکتا ہے ۔ یہ مختصر کتابچہ نہ صرف عصری علوم پڑھنے والوں کے لیے مفید ہےبلکہ دینی علوم پڑھنے والے مبتدی طلبہ کےلیے بھی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے جامع ،ناشر اور معاونین کے لیے اسے صدقہ جار یہ بنائے ۔آمین (م۔ا)

مبارک ہو رمضان المبارک آگیا

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہِ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔روزہ کے احکام ومسائل سے ا گاہی ہر روزہ دار کے لیے ضروری ہے ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیرنظر مختصر کتابچہ بعنوان’’مبارک ہو رمضان آ گیا‘‘ فاضل نوجوان مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾(مصنف ومترجم کتب کثیرہ) کا مرتب شدہ ہے ۔موصو ف نےاس کتابچہ میں روزے کی فضیلت اور ا جروثواب،گناہوں کی معافی، چاند دیکھنے کی دعا،روزے کی نیت،سحری کھانا،افطاری کا وقت،افطاری جلد کرنا اور سحری تاخیر سے کھانا،روزہ کھلوانے کااجر،روزے میں جائزوناجائزامور،روزہ توڑنے والے امور،روزے سےمتعلق متفرق مسائل،قیام اللیل،اعتکاف،شب قدر،فطرانہ،نفلی روزے کےعنوانات قائم کر کے اس سےمتعلقہ احادیث مکمل تخریج مع ترجمہ کے پیس کردی ہیں قارئین چندمنٹوں میں اس کتابچہ سے مستفید ہوکر رمضان المبارک کے جملہ احکام ومسائل سے اگاہ ہوسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرتب کی تحقیقی وتصنیفی،تدریسی ودعوتی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)

فرشتوں کا صحابہ ؓ سے پیار

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ درس گاہِ محمدیہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے افرادِ انسانی کی ایک ایسی مثالی جماعت تیار کی کہ انبیاء کرام کے بعد روئے زمین پر کوئی جماعت ان سے بہتر سیرت و کردار پیش نہ کر سکی۔ وہ مقدس جماعت جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی کیا گیا اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" خیر امتی قرنی" (بخاری)"میری امت کی سب سے بہترین جماعت میرے عہد کے لوگ ہیں۔" اسی طرح صحابہ کرام سے محبت جہاں تمام مسلمانوں کے ایمان کا جزء ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے پاکباز اور نورانی فرشتے بھی ان مقدس نفوس سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ فرشتوں اذنِ الٰہی سے انبیاء کرام پر نازل ہوتے رہے اور جناب حضرت محمدﷺ کے اصحاب سے ان کا خصوصی پیار تھا اور زمیں پر آکر ان سے ملاقات و مصافحہ کرنا، خیر و بھلائی میں، جہاد و قتال میں ان کی معاونت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ زیر نظر کتاب"فرشتوں کا صحابہ ؓ سے پیار" فضلیۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کی بے مثال تالیف ہے۔ جن کی شخصیت کاعلمی و ادبی حوالوں میں ایک معتبر نام ہے۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں فرشتوں کا انبیاء کرام، شہداء اور صلحاء سے تعلق و مودّت اور فرشتوں کا ان کی معاونت کے لیے نزول کرنا اور صحابہ کے جنازوں میں شرکت کرنا وغیرہ کو احاطہ تحریر میں لائے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہمت و استقامت سے نوازے اور مکتبہ اسلامیہ کے نگران و معاونین کو بھی دین کی سربلندی کے لیے مصروف عمل رکھتے ہوئے اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

صحابہ کرام ؓ کی عظیم مائیں

Authors: محمد عظیم حاصلپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نبیﷺ کے جانثار صحابہ کرامؓ جنہیں انبیائے کرام کے بعد دنیا کی مقدس ترین ہستیاں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جن کے بارے میں قرآن کریم کی ؓورضوا عنہ کی ضمانت موجود ہے اور جنہیں آقا دو جہاں ﷺ نے اصحابی کالنجوم فرما کر ستاروں کی مانند قرار دیا ہے‘ روئے زمین پر وہ مبارک ہستیاں تھی جن کی سانس قرآن وسنت کی معطر خوشبووں سے لبریز تھیں اور جن کا ہر ہر لمحہ قال اللہ وقال الرسول کی مکمل عکاسی کرتا تھا جن کا تعارف اور تذکرہ ہمارے ایمان کی زیادتی کا باعث ہوتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں ان عظیم ہستیوں کا تذکرہ ہے اور تعارف دیا گیا ہے۔ ان کا تعارف‘ کارنامے اور نمایاں کردار کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اور سیرت کی مستند کتابوں سے ان کا تعارف دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً پچاس عظیم شخصیات کواوراق کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ صحابہ کی عظیم ما ئیں ‘‘ محمد عظیم حاصل پوری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )