eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
سیدناعمر بن خطاب ؓشخصیت اور کارنامے

Authors: ڈاکٹر علی محمد الصلابی

In Knowledge

By Al Noor Softs

اسلام کی اب تک کی تاریخ میں دور نبوت کے بعد خلافت راشدہ کا دور ہر اعتبار سے سب سے ممتاز اور تابناک رہا ہے، کیونکہ اس کی باگ ڈور ان ہستیوں کے ہاتھ میں تھی جنہو ں نے جہاں بانی اور جہاں بینی میں شمع نبوت سے روشنی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سیرت خلفائے راشدین کے تمام پہلوؤں پر نہایت علمی انداز میں روشنی ڈالی۔ زیر مطالعہ کتاب ڈاکٹر موصوف کی دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کی حیات و خدمات اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ جس کا سلیس اردو ترجمہ شمیم احمد خلیل السلفی اور عبدالمعین بن عبدالوہاب مدنی نے کیا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓوہ شخصیت ہیں جنھوں نے فکری، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور جنگی و فتوحاتی غرض ہر میدان میں انسانیت و روحانیت اور امن و آشتی کے لئے ایسے عدیم النظیر نقوش چھوڑے جن سے آج کی ترقی یافتہ کہی جانے والی دنیا بھی درست راہ لینے پر مجبور ہے۔ اس کتاب میں آپ کے دور کی آبادیاتی ترقی اور وقتی بحران سے نمٹنے کا تذکرہ ہے۔ گزرگاہوں اور خشکی اور سمندری وسائل، فوجی چھاؤنیوں اور تمدنی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں آپ کے شدت اہتمام کا ذکر ہے۔ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ آپ کے زمانہ میں بصرہ، کوفہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہر کیسے آباد ہوئے۔ آپ ؓکے دور کی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و الہٰی سنن کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ غرضیکہ اس کتاب میں فاروق اعظم رضی اللہ کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز حوالہ کے بغیر ذکر نہیں کی گئی۔ یہ کتاب خطبا و مقررین، علما و سیاسی قائدین، دانشوروں، طلبا اور عوام کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)

سیدنا عثمان بن عفان ؓشخصیت اورکارنامے

Authors: ڈاکٹر علی محمد الصلابی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عثمان رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس جود و سخا، عفو و درگزر اور حیاء وعفت کا وہ بحر بے کنار ہے جس نے بارہا زبان نبوت ﷺ سے جنت کی بشارتیں سنیں، جو جامع القرآن کے لقب سے ملقب ہے۔ حضرت عثمان ؓ کی شخصیت اور کارناموں پر متعدد کتب اشاعتی مراحل طے کر چکی ہیں لیکن عثمان غنی سے وابستہ جمیع پہلؤوں کا احاطہ معدودے چند کتب میں ہی نظر آتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی نے نہایت خوبصورت انداز میں حضرت عثمان ؓ کی شخصیت اور کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کے ترجمہ کے فرائض شمیم احمد خلیل السلفی نے نہایت شاندار انداز میں نبھائے ہیں۔اس میں عثمان ؓکی زندگی سے متعلقہ کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ آپ کے خاندان اور مقام و مرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عثمان سے متعلقہ تمام احادیث کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ جہاں آپ کے منہج حکومت کو زیر بحث لایا گیا ہے وہیں دور خلافت میں مال و قضا کے ادارے کو ایک مستقل فصل میں سمویا گیا ہے۔ سیدنا عثمان کے گورنروں کی حقیقت سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ شہادت عثمان کے اسباب پر بھی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔ حضرت عثمان ؓپر کیے جانے والے تمام اعتراضات کا براہین قاطعہ کی روشنی میں مسکت جواب نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ یقینی طور پر یہ کتاب حیات عثمان پر لکھی جانے والی ایک دستاویز ہے اس میں وہ سب کچھ ہے جس کے آپ منتظر ہیں۔

کائنات کیسے وجود میں آئی

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ ہمارے نبیﷺ کو ایک جامع اور مکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور ہمارے فائدے کے لیے آسمان وزمین ‘پہاڑ‘ پرندے‘ جانور الغرض ہر ضروریات زندگی کو وجود بخشا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کائنات وجود میں تو آ گئی ہے مگر آئی کیسے؟ اس کے لیے زیر تبصرہ کتاب اپنے موضوع پر تفصیلاً کتاب ہے۔ یہ کتاب ’’قصۃ الخلق‘‘ جو کہ عربی زبان میں تھی کا اردو ترجمہ’’ کائنات کیسے وجود میں آئی‘‘ کے نام سے ہے اس میں مصنف نے قرآن کریم وصحیح احادیث نبویہﷺ کی روشنی میں کائنات کی تخلیق اور اس کے عدم سے وجود میں آنے کے حالات پر تفصیل سے کلام کیا ہے‘ نیز اس میں زمین وآسمان کی پیدائش‘ جنت ودوزخ‘ ملائکہ‘ ابلیس‘ جنات‘ لوح محفوظ وغیرہ کی تخلیق ان کے حالات وکیفیات کو قرآن کریم اور صحاح کی احادیث کی روشنی میں پوری جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب محدثانہ طرز پر احادیث کی مکمل اسناد کے التزام کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے۔ یہ کتاب سائنسی حقائق کے انکشافات کے کتاب نہیں ‘ نہ ہی اس کا مقصد سائنس کے نظریات کی تصدیق یا تکذیب ہے بلکہ قرآن وحدیث کے بیان کردہ یقینی وقطعی حقائق ہیں جن کے غلط اور ابطال ہونے کا ایک مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس میں ان اسرائیلیات سے اجتناب ہے جس کی ہماری شریعت نے نہ تو تکذیب کی ہے اور نہ تصدیق۔ یہ کتاب’’قصۃ الخلق‘‘ کے نام سے امام ابن کثیر کی شاہکار تصنیف ہے۔ آپ تقریباً بیس سے زائد تصانیف کے مؤلف ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

قرب قیامت کے فتنے اور جنگیں مع قیامت کے بعد کے احوال

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر کتب لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرب قیامت کے فتنے اور جنگیں مع قیامت کےبعد کے احوال ‘‘ مشہور ومعروف مؤرخ ومفسر قرآن علامہ حافظ ابن کثیر کی کتاب النہایۃ فی الفتن والملاحم کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب آخری زمانے کے فتنوں اور آثار قیامت کے بارے میں انتہائی اعلیٰ درجے کی کتاب ہے ۔حافظ ابن کثیر ﷫ نے اس کتاب میں ان قرآنی آیات اور احادیث کو ذکر کیا ہے جو آخری زمانے کے فتنوں اور علامات قیامت سے متعلق ہیں کہ قیامت سے پہلے کون کون سے بڑے واقعات رونما ہونگے۔ چھوٹی بڑی نشانیاں کو ن سی ہیں؟ اس دار فانی سے جانے کے بعد صبح دوام زندگی تک کیا ہوگا ؟ میدان حشر میں کیا ہوگا؟شفاعت او رحساب کتاب اوردیدار الٰہی سے متعلق بہترین گفتگو کی ہے ۔خلیل مامون شیحا کی تخریج احادیث اور محمد خیر طعمہ حلبی کی تعلیق سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

سیرت النبی ﷺ (ابن کثیر) جلد۔1

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

حافظ ابن کثیر﷫(701۔774ھ) عالمِ اسلام کے معروف محدث، مفسر، فقیہہ اور مورخ تھے۔ پورا نام اسماعیل بن عمر بن کثیر، لقب عماد الدین اور ابن کثیر کے نام سے معروف ہیں۔ آپ ایک معزز اور علمی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ ان کے والد شیخ ابو حفص شہاب الدین عمر اپنی بستی کے خطیب تھے اور بڑے بھائی شیخ عبدالوہاب ایک ممتاز عالم اور فقیہہ تھے۔کم سنی میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ بڑے بھائی نے اپنی آغوش تربیت میں لیا۔ انہیں کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ یہیں ان کی نشوونما ہوئی۔ ابتدا میں فقہ کی تعلیم اپنے بڑے بھائی سے پائی اور بعد میں شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے اس فن کی تکمیل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے ابن تیمیہ وغیرہ سے بھی استفادہ کیا۔ تمام عمر آپ کی درس و افتاء ، تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ آپ نے تفسیر ، حدیث ، سیر ت اور تاریخ میں بڑی بلند پایہ تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر اور البدایۃ والنہایۃ آپ کی بلند پایہ ور شہرہ آفاق کتب شما ہوتی ہیں۔ البدایۃ والنہایۃ 14 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس وقت ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سےاہم ہیں۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب’’سیرت النبی ﷺ‘‘ امام ابن کثیر ﷫ کی مذکورہ کتاب البدایۃ والنہایۃ میں سے سیرت النبی ﷺ پر مشتمل ایک حصہ ہے۔ اس حصے کواردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت مولانا ہدایت اللہ ندوی صاحب نے حاصل کی۔ یہ کتاب اپنے اندر بے پناہ مواد سموئے ہوئے ہے۔ امام ابن کثیر نے واقعات کا انداز تاریخ کے حساب سے رکھا ہے۔ سن وار واقعات کو درج کیاگیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو بہت سے ایسی معلومات حاصل ہوں گئی جودیگر کتبِ سیرت میں نہیں ہیں۔ امام ابن کثیر ﷫ چونکہ اعلیٰ پائے کےادیب او رعمدہ شعری ذوق کے مالک تھے۔ البدایۃ میں انہو ں نےجابجار اشعار درج کیے ہیں۔محترم ندوی صاحب نے ان اشعار کوبھی اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ نیز فاضل مترجم نے واقعات کے جابجا ذیلی عنوانات بھی دیئے ہیں جو بڑے مفید ہیں اورکہیں کہیں کچھ تشریحات بھی کی ہیں جوکہ ’’ندوی‘‘ کے تحت بریکٹ میں درج ہیں ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھال کر حسنِ طباعت سے آراستہ کرنے کی سعادت شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کے ساتھ پیش آنےوالے الم ناک واقعہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے ان کے رفیق خاص جناب مولانا عبد الخالق قدوسی شہید (بانی مکتبہ قدوسیہ، لاہور) کےصاحبزدگان نے حاصل کی ۔ مدیر مکتبہ جناب ابو بکر قدوسی صا حب نے 1996ء میں اس سیرت النبی ﷺ کو تین جلدوں میں بڑے خوبصورت انداز میں شائع کیا۔اس سے قبل 1987ء میں بھی البدایۃ والنہایۃ کےعربی نسخے کو 14 جلدوں میں مکتبہ قدوسیہ نے شائع کیا ۔اب توجناب ابو بکر قدوسی اور جناب عمر فاروق قدوسی اوران کے دیگر برادران کی محنت سے مکتبہ قدوسیہ ماشاء اللہ بیسیوں معیاری کتابیں شائع کرچکا ہے۔ اللہ ان برادران کے علم وعمل میں خیر وبرکت فرمائے اوران کی کاوشوں کو شرف ِقبولیت سے نوازے۔ (آمین) (م۔ا)

قصص الانبیاء ( ابن کثیر)

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از امام ابن کثیر الدمشقی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری ﷾ نے کی ہے ۔موصوف نے اس کتاب کا نہایت ہی سلیس اور رواں ترجمہ پیش کیا ہے۔ اسلوب عام فہم ہے، آیات واحادیث کی مکمل تخریج وتحقیق اوراکثر مقامات سے ضعیف اورموضوع روایات کو خارج کیاہے ۔مترجم موصوف نے اس کتاب کی اصل ترتیب کوبھی درست کیا ہے ،ایک ہی واقعہ میں روایات کے تکرار کو ختم کیا ہے، قارئین کی سہولت کے لیے بہت سے مقامات پر نئے عنوانات بھی قائم کیے ہیں جو کہ امام ابن کثیر نے قائم نہیں کیے تھے ۔ او رکتاب کے آخر میں انبیاء﷩ کے واقعات سےجو نتائج وفوائد فوائد سامنے آتے ہیں ان کابھی اضافہ کردیا ہے۔مذکورہ خوبیاں کے باعث یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب بن گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ عوام کواس کتاب سے مستفید فرمائے (آمین) (م۔ا)

تفسیر ابن کثیر(تخریج شدہ) جلد1

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Faith and belief

By Al Noor Softs

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ ؓ ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر ؒ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام ؒ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر ؒ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام ؒ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام ؒ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی ؒ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی ؒ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی ؒ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی ؒ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی ؒ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

تاریخ ابن کثیر ترجمہ البدایہ والنہایہ ۔ جلد1

Authors: حافظ عماد الدین ابن کثیر

In Arguments

By Al Noor Softs

اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم ؑ کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

یورپ پر اسلام کے احسان

Authors: ڈاکٹر غلام جیلانی برق

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

یورپ دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔آج جن کتابوں کا ایک بے پناہ طوفان مغرب سے اٹھ کر مشرق کو لپیٹ میں لے رہا ہے ان میں سے کوئی یہ نہیں بتاتی کہ وہ راجر بیکن جسے انگلستان میں بابائے سائنس سمجھا جاتا ہے عربوں کا شاگرد تھا اور وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ صحیح علم حاصل کرنا ہے تو عربی پڑھو۔ مؤرخین مغرب یونانیوں کو علم کا سرچمشہ بتاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان کی کتابیں چھ سو برس تک اسکندریہ،ایتھنز اور قسطنطنیہ میں مقفّل پڑی رہیں عربوں نے انہیں نکالا عربی ترجمہ کیااور یہی تراجم مسلمانوں کے ساتھ یورپ میں پہنچے ۔جناب ڈاکٹرغلام جیلانی برق نے زیر نظر کتاب ’’ یورپ پر اسلام کے احسانات‘‘ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ گلیلیو، کپلر ، برونو ، راجر بیکن عربوں کےہی نقال تھے او رجو عربی تہذیب نے یورپ پر اثرات مرتب کیے ان کوبھی واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ امریکہ کو دریافت کرنے والے کولمبس نےبحر پیمائی کی تعلیم اسلامی درسگاہو میں حاصل کی تھی اس کےپاس رہنمائی کے لیے جو کمپاس تھا اسے عربوں نےایجاد کی تھا اور افریقہ جانے والوں کےپاس جو نقشے تھے وہ عرب بحیرہ روم ، بحیرہ قلزم ، بحر ہند اوربحر الکاہل کے سفر میں صدیوں سے استعمال کرر ہے تھے ۔ الغرض ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اس کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ہمارے جلیل وعظیم اسلاف کےعلمی کارنامے کیا تھے ؟ وہ کیسے یورپ میں پہنچے اور وہاں کے وحشیوں کو کس طرح انسان بنایا۔یورپ جہالت وحشت ،بربریت اور فلاکت کی دلدلوں میں ڈوبا ہوا تھا ہمارے اسلاف نے اسے ان غلاظتوں سے نکالا اور علوم وفنون سے روشناس کیا تہذیب وتمدّن کا سبق دیا اور عروج وعظمت کی راہوں پر ڈالا۔(م۔ا)