eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت

Authors: فضل الرحمان بن محمد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

جب سے مہذب انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہےتب سے اس میں ٹیکسوں کا تصور کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یونان اور روم میں سب سے پہلے استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا۔درآمدی ڈیوٹی کو اندرون ملک بننے والے مال پر وصول ہونے والی ڈیوٹی پر ترجیح دی جاتی تھی۔جنگ کے دنوں میں جائیداد پر بھی عارضی طور پر ٹیکس عائد کر دیا جاتا تھا ۔پھر اس کا دائرہ کار دیگر اشیاء تک وسیع کر دیا گیا۔چونکہ دنیا میں اسلام کے علاوہ جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں موثر مالی نظام کا فقدان ہے۔لہذا دنیا کے غیر اسلامی ممالک کو اپنے مالی نظاموں کے لئے مروجہ نظام ٹیکس کا سہارا لینا پڑا۔جبکہ اسلام میں اس کمی کونظام زکوۃ کے ذریعےبحسن وخوبی پوراکر دیا گیا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ہم اسلام کی عظمت وکاملیت کے دعویدار ہیں تو دوسری طرف عملی طور اس کی نفی کرتے ہیں اور غیر اسلامی نظام حیات پر عمل پیرا ہو کر ثابت کرتے ہیں کہ فی زمانہ اسلامی نظام قابل عمل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت، علمی وتحقیقی مقالہ " محترم مولانا فضل الرحمن بن میاں محمد صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت پر مدلل گفتگو کی ہے۔کیونکہ انکم ٹیکس کا نظام نہ صرف غیر اسلامی اور ظالمانہ ہے بلکہ اس میں جھوٹ کو اپنانے کی رغبت بھی پائی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص صحیح طور پر انکم ٹیکس کا گوشوارہ بھرتا ہے تو پھر اس کے لئے اپنا کاروبار چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔خاص طور پر ان حضرات کے لئے تو بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے جو ٹیکس کے ساتھ ساتھ زکوۃ ادا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

جنازے کے مسائل ( فضل الرحمان )

Authors: فضل الرحمان بن محمد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

شرعی احکام کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جواہل بدعت کی فتنہ انگیزموشگافیوں کی نذر ہوچکا ہے۔ لوگ ایک عمل نیکی سمجھ کر کرتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں وہ انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ عمل دین کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ دین میں خود ساختہ ایجاد کا مظہر ہوتا ہے اور فرمان نبویﷺ ہے کہ دین میں ہرنئی ایجاد کی جانے والی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہےاور ہر گمراہی جہنم کی آگ میں لے جائے گی۔جن مسائل میں بکثرت بدعات ایجاد کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے ان میں وفات سےپہلے اور وفات کےبعد کے مسائل نہایت اہمیت کے حامل ہیں اس لیے کہ ان سے ہر درجہ کے انسان کاواسطہ پڑتا رہتا ہے خواہ امیر ہو یا غریب ،بادشاہ ہو یافقیر اور نیک ہو یا بد ۔ زيرتبصره کتاب ’’ جناز ے کے مسائل ‘‘ مولانا فضل الرحمن بن محمد کی تصنیف ہے۔ جس میں انہو ں نے قریب المرگ شخص کو کلمۂ توحید پڑھنے کی تلقین کرنا ، میت کےلیے دعائے خیر کرنا، وارثوں کا صبر سے کام لینا ، بین اور نوحہ کرنے سے پچنا ، خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کوغسل دینا، میت کا کفن ، حاجی اور شہید کی تجہیز وتکفین،شہید کی فضیلت ، جنازہ پڑھنے کاطریقہ ، جناز ے کی مسنون دعائیں قبرپر نماز جنازہ وغیرہ کے مسائل بیان کرنے کے علاوہ اایصالِ ثواب اور قرآن خوانی اور رسمِ قل جیسی خلاف شرع رسوم جو ہمارے معاشرے میں مروج ہوگئی ہیں ان کے بارے میں اصل حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے اور میت کے طرف سے حج بیت اللہ ،رمضان کے روزے اگر بیماری اور تکلیف کےباعث اس سے نہ رکھے گئے ہوں ، زیارت قبور اور بیماری یا تکلیف میں صبر کا اجر وغیرہ امور کی بھی بڑے احسن انداز میں صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

قادیانی و لاہوری مرزائی دائرہ اسلام سے خارج کیوں ہیں ؟ علمی جائزہ

Authors: فضل الرحمان بن محمد

In Knowledge

By Al Noor Softs

اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالی نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت او روحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ شفیع امت حضرت محمد ﷺ کی زبان صادقہ کا فیصلہ ہے ۔زیر نظر کتابچہ انہی دلائل وبراہین پر مشتمل ہے کہ جن کو سامنےرکھتے ہوئے مقدمہ مرزائیہ بہاولپور او ر1974ء میں عدالت نےقادیانی اور لاہوری مرزائیوں کوغیر مسلم قراردیا۔( م۔ا)

تفسیر فضل القرآن ۔ جزء اول

Authors: فضل الرحمان بن محمد

In Knowledge

By Al Noor Softs

مولانا فضل الرحمن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابتدائی عمر میں تو دینی تعلیم حاصل نہیں سکے۔لیکن جب اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کیا تو انہوں نے سخت محنت سے اپنا مقام بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے جھمیلوں سے نکللنے کے بعد آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مولانا عطاء اللہ حنیف کی شاگردی میں کتب احادیث اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ اب تک متعدد کتب اور کتابچے لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے تفسیر قرآن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ’تفسیر فضل القرآن‘ کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مولانا نے اس میں تفسیر بالماثور کا اسلوب اختیار کیا ہےاور اسلاف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھا ہے۔ جس جگہ پر آیات کی تفسیر آیات سے ہوسکتی تھی وہاں پر آیات ہی سے کی ہے پھر تشریح کے طور پر احادیث رسولﷺ سے استشہاد کیا ہے اور احادیث کو حوالوں سے مزین کیا ہے اگرچہ بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں احادیث حوالوں سے خالی نظر آتی ہیں اور کچھ مقامات پر ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جا بجا اقوال صحابہ و ائمہ اور تاریخی واقعات بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ حل لغات کے عنوان سے ہر آیت کے مشکل الفاظ کے اصل معنی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ جس سے آیت کا مدعا سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔

عورت کی سربراہی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں

Authors: فضل الرحمان بن محمد

In Knowledge

By Al Noor Softs

کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے امور حکومت کی نظامت مرد کی ذمہ داری ہے اور حکومتی و معاشرتی ذمہ داریوں سے ایک مضبوط اعصاب کا مالک مرد ہی عہدہ برآں ہو سکتاہے۔کیونکہ عورتوں کی کچھ طبعی کمزوریاں ہیں اور شرعی حدود ہیں جن کی وجہ سے نا تو وہ مردوں کے شانہ بشانہ مجالس و تقاریب میں حاضر ہوسکتی ہیں اور نہ ہی سکیورٹی اور پروٹوکول کی مجبوریوں کے پیش نظر ہمہ وقت اجنبی مردوں سے اختلاط کر سکتی ہیں ،فطرتی عقلی کمزوری بھی عورت کی حکمرانی میں رکاوٹ ہے کہ امور سلطنت کے نظام کار کے لیے ایک عالی دماغ اور پختہ سوچ کا حامل حاکم ہونا لازم ہے ۔ان اسباب کے پیش نظر عورت کی حکمرانی قطعاً درست نہیں بلکہ حدیث نبوی ﷺ کی رو سے اگر کوئی عورت کسی ملک کی حکمران بن جائے تو یہ اسکی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہو گی ۔زیر نظر کتاب میں کتاب وسنت کے دلائل ،تعامل صحابہ اور محدثین وشارحین کے اقوال سے فاضل مولف نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر کی چار دیواری ہے اور دلائل شرعیہ کی رو سے عورت کبھی حکمران نہیں بن سکتی ۔پھر معترضین کے اعتراضات اور حیلہ سازیوں کا بالتفصیل رد کیا ہے اور عورت کی حکمرانی کی راہ ہموار کرنے کے لیے فتنہ پرور مستشرقین کی فتنہ سامانیوں کو احسن انداز سے طشت ازبام کیا ہے ۔کتاب انتہائی مدلل ہے اور اپنے موضوع کی کما حقہ ترجمانی کرتی ہے ۔نیز دلائل و براہین کا ایسا انبار ہے جو افتراء پرداز علماء و نام نہاد مغربی طفیلیوں کے مصنوعی حیلوں کو خس و خاشاک کی طرح بہاتا چلا جاتا ہے ۔اس کتاب کی تالیف پر مولف حفظہ اللہ داد کے مستحق ہیں اور موجودہ دور میں جب سارا معاشرہ ہی عورت کی حکمرانی کا قائل دکھائی دیتا ہے ۔پھر حکومتی سطح پر قومی و صوبائی پارلیمان میں عورتوں کی وزارتوں کا کوٹہ بڑھا دینے اور الیکشن میں عورتوں کی مزید حوصلہ افزائی کی وجہ سے اس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے ۔اسے گھر گھر پہنچانا مبلغین و اہل ثروت کی ذمہ داری ہے ۔

جدید تحریک نسواں اور اسلام ( جدید ایڈیشن )

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو پستی کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، مغرب کی جانب سے ’تحریک آزادی نسواں‘ کے نام پر جو مہم شروع کی گئی تھی اس کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ عورت کو ’چراغ خانہ‘ کے بجائے ’شمع محفل‘ ہونا چاہیے ۔ زیرنظر کتاب’’جدید تحریک نسواں اور اسلام ‘‘پروفسر ثریا بتول علوی بنت عبد الرحمٰن کیلانی مرحوم (سابق ہیڈ شعبہ اسلامیات گورنمنٹ کالج برائے خواتین ، سمن آباد ،لاہور)کی تصنیف ہے ۔ مصنفہ نے یہ کتاب لکھ کر نہ صرف یہ کہ ایک اہم ترین تقاضا پورا کیا ہے بلکہ اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب میں شامل موضوعات کو مصنفہ نے حُسنِ ترتیب کےساتھ 24؍ابواب میں تقسیم کر کے اس میں ستروحجاب،نکاح وطلاق، مہر،خلع،شہادت،وراثت،دیت، عورت کی سربراہی وغیرہ مسائل پر قرآن وحدیث کی روشنی میں سیرحاصل بحث کرنے کے علاوہ تحریک آزادئ نسواں کےتقریبا تمام اہم مقدمات کا معروضی اور مفصل جائزہ لے کر واضح کیا ہےکہ صرف اسلام ہی طبقہ نسواں کا حصن وحصین (مضوط قلعہ)ہے ۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا پانچواں جدید ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مصنفہ نے ’’غیرت کا قتل‘‘ میں حسب ضرورت اضافہ وتبدیلی کی ہے اور ابواب کے اختتام پر دئیے گئے حوالہ جات کو متعلقہ صفحہ پر ہی لکھنے کا اہتمام کیا ہے،باب کا عنوان ،متعلقہ باب کےہر صفحے پر بھی دے دیا ہےاور ’’ مضبوط مگر باوقار عورت کون؟‘‘ کے عنوان سے ایک نیا باب اس میں شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی تدریسی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں ایمان وسلامتی اور صحت وعافیت سے رکھے۔آمین (م۔ا)

خواتین کا عالمی دن

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

8مارچ 1907 سے دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے اور اب کئی سالوں سے پاکستان میں بھی عام ہورہا ہے۔ یہ سلسلہ اس مغربی معاشرے کے ایک شہر نیویارک سے شرو ع ہوا جہاں خواتین نے اپنی ملازمت کی شرائط کو بہتر بنوانے کے لئے مظاہرہ کیا، جلسے جلوس ہوئے، خواتین پر تشدد بھی ہوا اور بالآخر مطالبات مان لئے گئے اسی لئے اس دن کو اقوام متحدہ نے عالمی یوم خواتین قرار دیا اور تمام ملکوں پر یہ ایجنڈا لاگو کردیا جس کی رو سے خواتین اور مردوں میں ہر قسم کا امتیاز ختم کیا گیا۔ صرف اسے دن خواتین کے حقوق پر بات کی جاتی ہے اور سارا سال فراموش کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’ خواتین کا عالمی دن ‘‘ معروف دینی سکالر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ کے ایک مضمون بعنوان ’’ خواتین کا عالمی دن‘‘ اور محترمہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ کی پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ کےلیے تیار کی تیار کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ بعنوان’’ عورت پر خاندان کی تباہی کے اثرات ‘‘ پر مشتمل ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں خواتین کے عالمی دن کے متعلق چشم کشا رپوٹس پیش کی گئی ہیں اور اس بات کوواضح کیاگیا ہے کہ عورت کی ترقی راز خاندان کےاستحکام اور اس کے ساتھ وابستگی میں پنہاں ہے ۔مغرب اس راز کو اپنے خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جانےکے بعد جان گیا ہے اب ہمیں اس سے پہلے ہی اس کا ادراک کرلینا چاہیے ۔(م۔ا)

اربعین للنساء من احادیث المصطفیٰ ﷺ

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکے ہیں۔نیزبرصغیر میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے بھی ’’اربعین‘‘ کے نام سے کئی مجموعے مرتب کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اربعین للنساء‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کو پروفیسر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے خواتین کے لیے مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نےاس میں مجموعہ کو پانچ ابواب اور چالیس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔ جن میں ایمانیات واخلاق ، ارکان واعمال ،معاملات اور ستروحجاب جیسے اہم موضوعات کا انتہائی پر مغز اور معنی خیر احاطہ کیا ہے ۔خواتین کی انفرادی زندگی سے لے کر عائلی ومعاشرتی سطح تک اہم مسائل سے متعلقہ احادیث مبارکہ کا انتہائی دقت تظری سے انتخاب کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود جامع او رمحیط ہے اور اپنی جامعیت وافادیت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے باقاعدہ سبقاً پڑھا یاجائے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعہ حدیث کو خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے اور مصنفہ کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

استاد ملت کا محافظ

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ وہ تو اسے بنانا ہی غیراسلامی ملک چاہتے ہیں ۔ محترمہ ثریابتول صاحبہ ان درد رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اور یہ کتاب اسی حوالے سے ان کی کاوش ہے ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔(ع۔ح)