eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
خطبات آیت الکرسی

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

قرآن حکیم‘ رب کائنات کا اپنے بندوں کے نام پیغام عظیم ہے۔ اس کا پڑھنا کارِ ثواب‘ سمجھنا باعث ہدایت اور عمل کرنا ذریعہ نجات ہے۔ ملت اسلامیہ کے زوال وانحطاط کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کتاب الٰہی سے اعراض اور پیغام ربانی سے انحراف بھی ہے۔ امت مسلمہ کے عروج واستحکام‘ عظمت رفتہ کی بحالی اور دنیوی واُخروی کامیابی کے لیے قرآنی فہمی انتہائی ضروری ہے۔ ہماری اعتقادی بے راہ روی اور عملی خرابیوں کی بنیادی وجہ بھی قرآنی احکام سے بے خبری‘ الٰہی فرامین سے لا علمی اور آسمانی ہدایت سے بے اعتنائی ہے۔ آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عوام کوقرآنی حقائق ومعارف سے آگاہ کیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر تالیف کی گئی ہے۔ اس میں قرآنی مجید میں موجود آیات توحید میں سے ایک آیت‘ آیۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے اس کے خطبات کو بیان کیا گیا ہے۔ فضائل سے لے کر اس کے سب اور وجہ تسمیہ نیز ہر ایک موضوع کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے اور حوالہ ساتھ ہی دے دیا جاتا ہے ۔ یہ کتاب’’ خطبات آیت الکرسی ‘‘ عبد الستار حامد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

خطبات سورۃ یٰسین

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورۃیٰسین مکی سورت ہے اس سورۃکا آغاز “ی” (یا) اور “س” (سین) دو حرفوں سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یٰس ہے۔اس کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے درمیانی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہو گی۔سورۃ یٰسین کا مرکزی مضمون آخرت کے انجام سے خبردار کرنا ہے اس طور سے کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ جاگ اٹھیں اور انہیں اپنے مستقبل اور اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہو۔ رسول کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ خبردار کرنے کا یہ فریضہ انجام دے۔اس سورت کی فضلیت کے متعلق کتب احادیث میں متعدد احادیث موجود ہیں لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ اس سورہ کو کسی شخص کی جانکنی کے موقع پر پڑھا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ یٰسین ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ یٰسین‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1993ء میں جامع مسجد توحید اہل حدیث وزیر آباد میں کیا اور 12 خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃیٰسین کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

خطبات سورہ مریم

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورۃ مریم قرآن مجید کی مکی سورتوں میں سے ہے اس سورۃ کا بنیادی موضوع حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ حضرت مریم ؑ کے بارے میں صحیح عقائد کی وضاحت اوران کے بارے میں عیسائیوں کی تردید ہے اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی عیسائیوں کی کوئی خاص آبادی نہیں تھی لیکن مکہ مکرمہ کے بت پرست کبھی کبھی آنحضرت ﷺکے دعوائے نبوت کی تردید کے لئے عیسائیوں سے مدد لیا کرتے تھےاس کے علاوہ بہت سے صحابہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کررہے تھے جہاں عیسائی مذہب کی حکمرانی تھی اس لئے ضروری تھا کہ مسلمان حضرت عیسی ،حضرت مریم ،حضرت زکریا اور حضرت یحیی ؑ کی صحیح حقیقت سے واقف ہوں چنانچہ اس سورت میں ان حضرات کے واقعات اسی سیاق وسباق میں بیان ہوئے ہیں اور چونکہ یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ وہ انبیائے کرام ہی کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہیں اس لئے بعض دوسرے انبیاء کرام ﷩ کا بھی مختصر تذکرہ اس سورت میں آیا ہے لیکن حضرت عیسی کی معجزانہ ولادت او راس وقت حضرت مریم ؑ کی کیفیات سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ا سی سورت میں بیان ہوئی ہیں اس لئے ا س کا نام سورۂ مریم رکھا گیا ہے۔ صحابی رسول ﷺسیدنا جعفر طیار حبشہ میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں اسی سورت کی تلاوت کی تھی جسے سن کر وہ خود اور اسے کے درباری آبدیدہ ہوگئے تھے اور مسلمانوں کواپنےہاں حبشہ پناہ دی اور انہیں بڑے عزت واحترام رکھا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ مریم ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ مریم‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1994ء میں کیا اور بیس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃمریم کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

خطبات سورہ کوثر

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورۃ کوثرمکی سورۃ ہے مکی سورتوں کی اہم خصوصیت قرآن کی آفاقی فصاحت و بلاغت ہے۔وہ عرب لوگ جو اپنی زبان کے مقابلے میں دوسروں کو’’ عجمی‘‘یعنی گونگا کہتے تھے وہ بھی قرآن کے سامنے بے بس ہو چکے۔قرآن نے اہل مکہ کو چیلنج دیا کہ ایک کتاب یا ایک سورۃ یا ایک آیت ہی بنا لاؤ لیکن وہ عرب اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے اور ماند پڑ گئے۔ایک بار مکہ میں قصیدہ نویسی کا مقابلہ ہوا ،کم و بیش چالیس قصائد خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکائے گئے،ان میں سے بعض اپنی طوالت میں بے مثال تھے ۔آخر میں سورۃ کوثر بھی آویزاں کی گئی اور ہر فیصلہ کرنے والا اس سورۃ پر آن کر اٹک جاتااور سب لوگوں نے بالاتفاق کہا کہ یہ کسی انسان کی کاوش نہیں ہو سکتی۔الکوثر سے ایک نہر مراد ہے ، جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔واضح رہے کہ نہر کوثر اور حوض کوثر میں فرق ہے کہ ، حوض کوثر میدان حشر میں ہو گا ـ جبکہ کوثر یا نہر کوثر جنت میں ہے ، البتہ یہ ضرور ہے کہ حوض میں جو پانی ہے اس کا مصدر نہر کوثر ہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ کوثر‘‘ پرو فیسر عبد الستار حامد ﷾ کی سورۃ الکوثر کی تفسیر میں 12 خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ خطیبانہ انداز میں فضائل رسول ﷺ کا منفرد تذکرہ پر مشمل ہے ۔موصوف نےان خطبات میں رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کے حوالے سے ’’ کوثر‘‘ کے چند معروف مفاہیم کو خطبات جمعہ میں بیان کیا اور بعد ازاں اسے کتابی صورت میں مرتب کر کے شائع کیا ہے ۔موصوف اس کے علاوہ سورۃ یوسف ، سورۃ مریم ، سورۃ یٰسین، سورۃ کہف، سورۃ نور، سورۃ فاتحہ اور آیت الکرسی پر اپنے خطبات کو مرتب کر کےشائع کرچکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اور زور قلم میں مزید اضافہ فرمائے ۔(آمین)

خطبات سورہ کہف

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورت کہف قرآن مجید کی 18 ویں سورت جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضر اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ سورت مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی جو انہوں نے نبی ﷺکا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصۂ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا، اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے ان کا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد ﷺ کے پاس کوئی غیبی ذریعۂ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اُس صورتحال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان درپیش تھی۔اس سورت کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے والے کے لئے دو جمعوں کے درمیانی عرصہ کے لئے روشنی رہتی ہے ۔ ( سنن بیہقی ص249 ج 3 ) زیر تبصرہ کتاب’’خطبات سورۃ کہف ‘‘ پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ کہف کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز نومبر1994ء میں کیا اور بیس خطبات یعنی پانچ ماہ میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃ کہف کی منفرد تفسیر ہے ۔(م۔ا)

خطبات سورہ فاتحہ

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ فاتحہ ‘‘پروفیسر حافظ عبدالستار حامد﷾ کے سورۃ فاتحہ کے متعلق بیان کے گئے خطبات کا مجموعہ ہے ان خطبات کا آغاز موصوف نے جولائی 1998ء میں او ر 15 خطبات میں اس عظیم الشان اور بابرکت سورۃ کی تفسیر وتوضیح مکمل کی ۔پروفیسر عبد الستار حماد صاحب نے اس سورت مقدسہ کے خطبات میں عوام کو دقیق تفسیری نکات میں الجھانے سے گریز کرتے ہوئے عام فہم اورسادہ اندازمیں قرآنی احکام سمجھانے اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

خطبات سورہ التکاثر

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورۃ التکاثر مکی سورت ہے قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے اعتبار سے سولہویں اور ترتیب توقیفی کے لحاظ سےسورۃ نمبر 102 ہے اس میں معجزانہ اختصار اور بلیغانہ اعجاز کے ساتھ موت ،قبر، قیامت، حشروحساب کے حقائق اوردوزخ کے مناظر بیان کےگئے اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنالیتے ہیں اوردنیا کاا یندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں،ان کے انہماک کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے؛ لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے ،جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اورانہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ،ان لوگوں کو ڈرایاگیا کہ قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہوگا ،پھر تم جہنم کو ضرور دیکھوگے اور تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ امن ،فراغت،اکل وشرب،مسکن،علم او رمال ودولت جیسی نعمتوں کو کہاں استعمال کیا؟۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ التکاثر ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ التکاثر‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز جنوری 2002ء میں کیا اور دس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃالتکاثر کی منفرد تفسیر ہے ۔مصنف موصوف کی یہ بارہویں اور ’’ قرآن خطبات ‘‘ کے بابربرکت سلسلے کی نوویں(9) کتاب ہے (م۔ا)

خطبات سیرت مصطفٰی ﷺ جلد اول

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ اوراسی طرح بعض علماء کرام نے مکمل سیرت النبی کو خطبات کی صورت میں بیان کیا اور پھر اسے مرتب بھی کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات سیرت المصطفیٰ‘‘ معروف اسکالر پروفیسر حافظ عبدالستار حامد﷾(امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب) کے سیرت النبی کے موضوع بارہ خطبات کا مجموعہ ہے اس کتاب میں موضوعاتی اعتبار سے بارہ خطبات کوجمع کیا گیا ہے۔ یہ تقاریر دراصل موصوف کے 1994ء کے خطبات جمعہ ہیں جنہیں بعد میں کچھ اضافوں کےساتھ تحریری شکل دی گئی ہے ۔یہ کتاب خطیبانہ انداز میں ایک منفرد تذکرہ رسول ﷺ ہے۔تحقیق وتخریج سےکتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔(م۔ا)

انوار رمضان

Authors: حافظ عبد الستار حامد

In Faith and belief

By Al Noor Softs

روزہ اسلام کےمسلمانوں پر فرض کردہ فرائض میں سے ایک ہے۔اور روزہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک وہی مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔روزہ کی دوسرے فرائض سے یک گونہ فضیلت کا ندازہ اللہ تعالٰی کےاس فرمان ہوتا ہے’’ الصیام لی وانا اجزء بہ‘‘ یعنی روزہ خالص میرے لیے ہےاور میں خود ہی اس بدلہ دوں گا۔روزہ کے احکام ومسائل سے ا گاہی ہر روزہ دار کے لیے ضروری ہے ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ انوارِ رمضان ‘‘ صاحب کتاب جناب مولانا حافظ عبد الستار حامد﷾ کے 1993ء میں نماز فجر کے بعد مسائل رمضان پر دئیے گئے دروس کا مجموعہ ہے جسے بعد میں سامعین کے اسرار پر مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے ۔جس میں رمضان المبارک اور روزہ کے جملہ احکام ومسائل کو عام فہم انداز میں بیان کیاگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)