eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
رسول اللہ ﷺ کی حکمرانی وجانشینی
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
زیرِ نظر کتاب معروف اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی کتاب ’’The Prophet’s Establishing A State & His Succession‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اسے اردو قالب میں پروفیسر خالد پرویز نے منتقل کیا ہے۔ کتاب میں کل گیارہ مضامین کو زیر بحث لایا گیا ہے جو در حقیقت نبی کریم ﷺ کی حکمرانی و جانشینی کے نمایاں پہلو ہیں۔ اس کے دو مضامین ’’اسلامی سلطنت کی تنظیم‘‘ اور ’’دنیا کا پہلا تحریری دستور‘‘ ایسے ہیں جنہیں ڈاکٹر موصوف نے انگریزی واردو دونوں زبانوں میں تحریر کیا ہے۔ چنانچہ ان کا ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ ویسے ہی نقل کئے گئے ہیں۔ کتاب کے آخری مضمون ’’حضرت علی المرتضیٰؓ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ کی ایک اور انگریزی کتاب میں شامل تھا جسے موضوع کی مناسبت سے مترجم کی طرف کتاب ھذا میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ مصنف کا نقطۂ نظر قاری تک مکمل شکل میں پہنچ سکے۔ کتاب کے مضامین کی ترتیب میں اسلام میں آئینی مسائل، دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور، پہلے تحریری دستور کی دفعات، اسلام میں ریاست کا تصور، اسلامی سلطنت کی تنظیم (قرآن کے آئینے میں)، مسلم مملکت میں مالیاتی نظم و نسق، رسول اللہ کے دور میں بجٹ سازی اور ٹیکسیشن، رسول اللہ بحیثیت سیاسی مدبر، جنگ جمل اور صفین کے پس پردہ یہودی ہاتھ، رسول اللہ کی طرف سے بستر وصال پر وصیت لکھوانے کا قصہ اور حضرت علی المرتضیٰ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟ جیسے عنادین شامل ہیں۔ یہ کتاب رسول اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک شاہکار ہے۔ جزاہ اللہ امن الجزاء۔(آ۔ہ)
تردید حاضر و ناظر
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
In Arguments
حاضر کے معنی ہیں ”موجود“ اور ناظر کے معنی ہیں ”دیکھنے والا“ مگر جب ان دونوں کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم و مطلب یہ ہوتا ہے: ”ایسی ہستی جو پوری کائنات کو کف دست کی طرح دیکھ رہی ہے، کائنات کا کوئی ذرہ اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں“ یہ مفہوم صرف اللہ جل شانہ کی ذات پاک پر صادق آتا ہے اس لیے اہل السنہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حاضر و ناظر ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس کو کسی دوسری ذات کے لیے ثابت کرنا غلط ہے حتی کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ رکھنا درست نہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تردید حاضر و ناظر‘‘ مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری کی تصنیف ہے ۔یہ رسالہ انہوں نے مولوی عتیق الرحمٰن بریلوی کے ردّ میں تحریر کیا ہے۔مصنف نے اس رسالہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔(م۔ا)
احترام مسلم
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
اسلام میں حسن اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو حسن اخلاق کو اپنانے اور رذائل اخلاق سے بچنے کی پر زور ترغیب دی ہے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا:” قیامت کے روز میرے سب سے نزدیک وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہے۔“ حسن اخلاق انسان میں بلندی اور رفعت کے جذبات کا مظہر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان میں پستی کے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جنہیں رذائل اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل حیوانی جذبات ہیں۔ چنانچہ جس طرح حیوانوں میں کینہ ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر بھی کینہ ہوتا ہے۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی انتقامی جذبہ اور غصہ ہوتا ہے۔ اسے اشتعال دیا جائے تو وہ مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں اخلاقی بلندی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور بدخلقی کے ذیل میں آتی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان پر کنٹرول کیا جائے۔ غصہ ، انتقام ، عداوت ، تکبر کے جذبات پر قابو پایا جائے اور تحمل و برداشت اور عاجزی و انکساری کو شعار بنایا جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے گا تو اس کے نفس کی تہذیب ہوگی، اس کے اخلاق سنوریں گے۔ وہ اللہ کا بھی محبوب بن جائے گا اور خلق خدا بھی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ اس کے برعکس جو شخص بداخلاقی یا رزائل اخلاق کا مظاہرہ کرے گا، وہ خدا کی نظرمیں بھی ناپسندہوگا اور مخلوق خدا بھی اسے بری نگاہ سے دیکھے گی۔ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی بے شمار بد اخلاقیوں میں سے ایک بد اخلاقی یہ بھی ہے کہ افراد ملت ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں کرتے اور ایک دوسرے کا احترام بجا نہیں لاتے۔ زیر تبصرہ کتاب "احترام مسلم" محترم مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے باہمی احترام پر مبنی تعلیمات کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حسن اخلاق کو اپنانے اور رذائل اخلاق سے بچنے کی توقیف عطا فرمائے۔آمین(راسخ)
دلائل ہستی باری تعالیٰ
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
In Arguments
زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں ۔ اگر اللہ ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے اور اگر اللہ موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیزبے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اسلام میں اہمیت اللہ کے ہونے یا نہ ہونے کو حاصل نہیں بلکہ اللہ کی الوہیت کو حاصل ہے ۔ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور کرنے اور اس میں اللہ تعالی کی نشانیاں تلاش کرنے پر ابھارتا ہے۔ قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج، چاند اور ستارے، جانوروں میں دودھ بننے کے پیچیدہ عمل کی طرف اشارات، انسان کی پیدائش میں اللّٰہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا، بارش بننے کا عمل، پہاڑوں کے فوائد، رات اور دن کا باری باری آنا جانا وغیرہ کو اللہ تعالی کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ میں غور کرنے کی خاص طور پر ترغیب دلائی گئی ہے۔ تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)کو دیکھ کر عقل مجبور ہوتی ہے کہ اس کے صانع کا اقرار کرے۔ دہریئے(atheist) اور لا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ فعل کے لئے فاعل کا ہونا ضروری ہے ۔ پس جب ایک بلندعمارت اور ایک بڑا قلعہ اور اونچے مینار کو اور ایک دریا کے پل کو دیکھ کر عقل یہ یقین کر لیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کائنات کا وسیع وعریض نظام بغیر کسی چلانے والےکے چل رہا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "دلائل ہستی باری تعالی" محترم عبد الرؤف بن رحمت اللہ جھنڈا نگری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی طریقے اے اللہ تعالی کے وجود پر عقلی ونقلی دلائل کو جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)
علمائے دین اور امراء اسلام
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
علم خدا کا اپنے بندوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے ۔ اور پھر بالخصوص علم دین تو ایک نعمت عظمی سے کم نہیں ۔ قرآنی آیات اور احادیث میں علم دین اور اس علم کو حاصل کرنے والوں کے بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں ۔ کہیں فرمایا کہ فرشتے دینی طالب علم کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔ اور کہیں فرمایا کہ دنیا میں سب سے افضل اور اعلی انسان ہی وہ ہے جو اللہ کےقرآن کے تعلیم دیتا ہے ۔ اسی طرح عبداللہ بن مبارک نے اس علم کی طلب میں پیدا ہونے والی لذت کے بارے میں فرمایا کہ اگر بادشاہوں کو علم ہو جائے کہ اس علم میں کس قدر لذت ہے تو وہ اپنی شان و شوکت والی زندگی چھوڑ کر ہم سے یہ چھیننے آجائیں ۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس علم کی اشاعت میں امیر ورئیس مسلمانوں نے حصہ لیا ہے وہ اسلامی تاریخ میں حیرت انگیز مثالیں ہیں ۔ بالخصوص اس وقت جب ان طالبان دینی اور اہل علم معاشی کفالت و سرپرستی حکومت نے ختم کر دی ۔ ان تاجران دینی نے رضائے الہی کے لئے اس کام بیڑا اٹھایا ۔ زیرنظرکتاب میں انہی دونوں گروہوں کی قربانیاں اور اہم شخصیات کاتذکرہ کیا گیا ہے ۔(ع۔ح)
ایام خلافت راشدہ
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ رہا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک بھی معاشی عدم استحکام، عدل و انصاف اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا شکار ہیں۔ اسی کے سبب ہنگاموں، فسادات اور احتجاج کی لہر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں مولانا عبدالرؤف رحمانی نے ایام خلافت راشدہ کا اسی تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ جس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہ زمانہ معاشی و سماجی عد و انصاف اور امن و امان کا بہترین دور تھا۔ (ع۔م)
العلم والعلماء(عبد الرؤف جھنڈانگری)
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
حقوق ومعاملات
Authors: عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری
آج ہر شخص پریشان نظر آتاہے،اورکسی کو بھی حقیقی سکون میسر نہیں ہے۔ اس پریشان حالی اور غیر مطمئن حالت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنےکےلیے دین حنیف سے رہنمائی نہیں لیتے۔ بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے پاس جاتےہیں جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔اسلام وہ عظیم دستور زندگی ہے جس نے فرد اورمعاشرے کی اصلاح،فلاح بہبوداورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقررکردیے ہیں، جن پر عمل کر کے ہرانسان اپنےمعاملات کو بطریق احسن حل کرسکتا ہے۔مولانا عبد الروف رحمانی جھنڈانگری برصغیر کے معروف عالم دین اوربلند پایہ واعظ تھے ۔ آپ کو خطیب الہنداور خطیب الاسلام کے پر فخر القابات سے نوازا گیا تھا۔ آپ نے تصنیف وتالیف کے میدان میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔آپ نےمتعددعلمی واصلاحی موضوعات پر لکھا ہے اورتقریباپچاس سے زیادہ کتب کے مؤلف بھی ہیں۔زیرتبصرہ کتاب ’’ حقوق ومعالات ‘‘ مولانا موصوف کی ہی ایک اہم کتاب ہے ، جس میں انہوں قرآن واحادیث ، وتاریخ اسلام، سیر وسوانح کی کتابوں سے حقوق ومعاملات کے موضوع پر ان نصوص وواقعات کو یکجاکردیا ہے جس سے ہماری زندگی میں روز مرہ کا واسطہ پڑ تا ہے ۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)
اسلامی مذاہب
Authors: محمد ابو زہرہ مصری
جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں ۔ مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم ہیں۔او راس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیرز نظر کتاب’’اسلامی مذاہب‘‘معروف ادیب ،فقیہ پروفیسر محمدابوزہرہ کی عربی تصنیف’’ المذاہب الاسلامیہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں اسلامی فرق ومذاہب کا ذکر وبیان ہے ۔ شیخ ابوزہر ہ نے یہ کتاب مصری حکومت کی وزارت تعلیم کے ادارہ ثقافت عامہ کے حسب فرمائش مرتب کی ۔مصنف نے اس کتاب میں اسلامی فرقوں کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے ۔اعتقادی فرقے،سیاسی فرقے،فقہی مذاہب ومسالک۔یہ کتاب فرق اسلامیہ سے متعلق معلومات کا گنجینہ ہے اور اپنےدامن میں ان کلامی دلائل وبراہین کو سموئے ہوئے ہیں جویہ فرقے اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔اسلامی فرق کوائف واحوال او رعقائد وافکار معلوم کرنے کے لیے شیخ ابوزہرہ کی یہ کتاب ’’الملل والنحل شہرستانی ،’’الفصل فی الملل والاہواء والنحل ابن حزم،اور کتاب الفرق بین الفرق از عبد القادری بغدادی کانعم البدل ہے ۔(م۔ا)