قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ... ﴿٣٤﴾...الحج ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ؑ کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم ﷺ کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کیا خصّی جانور کی قربانی سنت ہے؟‘‘ خرم شہزاد کی ہے۔ اس کتاب میں غیر خصی جانور کی قربانی کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں فضیلت والی قربانی گردانا ہے مزید اس بارے میں صحابہ کرام اور دیگر محدثین کے اقوال کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلفِ کتاب کو اجرِ عظیم سے نوازےاور اس دینی لٹریچر کو اخروی توشۂ نجات میں شامل فرمائے اور اس کتاب کے مقاصد کو قبولیت سے نوازے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)