اللہ اور اس کے رسول اکرمﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کے بارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چارو ناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام، بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔ کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے۔ مستقل تصانیف میں امام ذہبی، شیخ احمد بن ہیثمی، ابن النحاس، محمد بن عبد الوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی کی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’کبیرہ گناہ اور ان کا عبرت ناک انجام‘‘ کی کاوش ہے انہوں نے اس کتاب میں امام شمس الدین امام ذہبی کی مشہور کتاب ’’الکبائر‘‘ سے استفادہ کر کے اس میں کبیرہ گناہوں کی تفصیلات کو پیش کردیا ہے۔ نیز اس کے علاوہ کچھ کبائر کا اضافہ کیا ہے جسے دوسرے علماء نےاپنی اپنی کتب میں متفرق مقامام پر بیان کیا ہے۔ استاد الاساتذہ شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بن محمد﷾ کی اس کتاب پر نظرثانی سے اس کی افادیت واہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)