عورت کے لیے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا۔ پردہ کا شرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کی شہوانی کمزوریوں کا کافی و شافی علاج ہے۔ اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کئی اہل علم نے عربی و اردو زبان میں پردہ کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’وجوبِ نقاب و حجاب‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے جو کہ ان کے ریڈیو ام القیوین متحدہ عرب امارات کی اردو سروس میں پیش کیے گئے پروگرامز کی کتابی صورت ہے۔موصوف نے اس کتاب میں قرآن و سنت ، آثار صحابہ رضی اللہ عنہم و ائمہ اور اقوالِ علماء فقہاء کی روشنی میں عورتوں کے چہرے کے پردے کے بارے میں تفصیلی بحث پیش کی ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ عورتوں کے چہرے کا پردہ فرض اور واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام دعوتی و تبلیغی ، تحقیقی و تصنیفی کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔ (م۔ا)