قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہذارسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہذا ایک مسلمان کے ایمان کایہ تقاضہ ہے کہ وہ نبیﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی ہربات کو سچ سمجھے اوران کی شخصیت کو اپنے لیے آئیڈیل اور نمونہ بنائے۔ کیونکہ کامیابی کی طرف جانے والے سب راستے شریعت محمدیہ ﷺ سے ہوکر گزرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کوچھوڑ کر کسی بھی بڑے کا دامن تھامنا نہ نجات دلاسکتا ہے اور نہ ہی صحیح راستے کی جانب راہنمائی کرسکتاہے اور ہماری کامیابی نبی کریم ﷺ کے ااقوال وافعال وااعمال پرعمل پیرا ہونے میں ہے۔ احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بہت سے کاموں کو قسم اٹھا کر ذکر فرمایا ہے ، یا اپنی خبروں کی حقانیت پر قسم اٹھائی اور قسم اٹھانے کے لیے بھی آپ مختلف الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ مثلا واللہ، والذی بعثنی بالحق، والذی نفس محمد بیدہ، والذی نفسی بیدہ وغیرہ ۔نبی ﷺ کی زبان صادر ہونے والے یہ قسمیہ کلمات احادیث کی مختلف کتب میں موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ والذی نفسی‘‘ کے مصنف جناب تفضیل احمد ضیغم نے اس کتاب میں ان فرامین کو یکجا کرنے کا اہتمام کیا ہے جو ’’والذی نفسی بیدہ‘‘ کے جملہ سے صادر ہوئے ہیں۔ ا ن میں کچھ احکام ہیں اور کچھ آپ ﷺ کی جانب سے بیان کی جانے والی خبریں۔ صاحب کتاب نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ میں نبیﷺکی زبان مبارک سے ادا ہونے والی قسمیہ احادیث، دوسرے حصہ میں صحابہ کرام کے قسمیہ کلمات ہیں۔ اور تیسرے حصہ میں اس مضمون سے متعلقہ چند ضعیف روایات درج کردی ہیں اور تمام احادیث کے حوالہ نقل کرنے کے ساتھ محدثین کا حکم بھی نقل کردیا ہے۔ (م۔ا)