نکاح میں ولی کی حیثیت


By Al Noor Softs
Posted on Jan 10, 2025
In Category Worship and matters
Authors ام عبد منیب
Published By ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
In Year 2014
Key Word ولی کا لفظ اصطلاح نکاح میں ولی ہر شعبہ زندگی میں
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 103
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق عطا کیا ہے کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ اسے اس کام سے بالجبر بھی باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے -علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’نکاح میں ولی کی حیثیت‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہو ں نے ولی کے معنی ومفہوم کو بیان کرنے کےبعد نکاح میں ولی کی اہمیت وضرورت اور بغیر ولی کے نکاح کرنے کا نقصان اور اس نکاح کی شرعی حیثیت کو قرآن وحدیث اور فقہاء ومحدثین عظام کی آراء اور اقوال کی روشنی میں آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
Ratings Read Downloads
(٠)   76   15
 
 

اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق  عطا کیا ہے  کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے  علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں  کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ  اسے اس کام سے بالجبر بھی  باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے  سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں  اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا  مسئلہ یعنی جوان لڑکی  کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے  کہ کسی نوجوان لڑکی  کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ  وہ والدین کی اجازت  اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار  اختیار کرکے  کسی عدالت میں یا کسی  اور جگہ  جاکر  از خود کسی  سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی  صحت کے لیے  ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے  ۔ لیکن  موجودہ دور میں مسلمانوں کے  اسلام سے  عملی  انحراف نے جہاں شریعت  کے  بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے  سے بھی  اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے  -علاوہ  ازیں ایک فقہی  مکتب فکر  کے  غیر واضح موقف کو بھی  اپنی بے راہ روی  کے جواز کےلیے  بنیاد  بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’نکاح میں ولی کی حیثیت‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش  ہے جس میں انہو ں نے ولی کے  معنی  ومفہوم کو  بیان کرنے کےبعد  نکاح میں ولی کی  اہمیت وضرورت اور  بغیر ولی کے نکاح  کرنے کا نقصان اور اس  نکاح کی شرعی  حیثیت کو  قرآن وحدیث اور  فقہاء  ومحدثین عظام کی آراء اور اقوال کی روشنی میں  آسان فہم انداز  میں بیان کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اوراسے  عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے  (آمین) (م۔ا)

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks