تاریخ انسانی اس بات کی شاہد ہے کہ دنیا میں کبھی طاغوتی نظام کے پجاریوں کا غلبہ رہا اور کبھی حزب الرحمٰن کا۔ اس ضمن میں سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ جس دور میں بھی اہل ایمان نے اپنے اصلی منہج سلیم وطریق نبوی کو چھوڑ کر تفرقہ بندی اور بدعات وخرافات والا راستہ اپنایا‘ اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور شیطانی کارندوں نے اُن پر غلبہ حاصل کر کے دنیا کو جہنم کی راہ پر چلا دیا‘ جس کے نتیجے میں قومیں کی قومیں دنیا کے نقشہ سے مٹا دی گئیں۔ روئے زمین پر جا بجا پائے جانے والے کھنڈرات اور آثار قدیمہ اس سچائی کا منہ بولتا ثبوت اور قرآن حکیم میں مندرج واقعات اس پر برہان قاطع وساطع ہیں۔آج ملت اسلامیہ محمدیہ بھی اپنے دین کے بگاڑ‘ بدعات وخرافات کی اندھی پیروی اور تفرقہ بندی کا مکمل طور پر شکار ہو چکی ہے۔ایسی صورتحال میں لوگوں کی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کی رہنمائی اور اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے اور عرب کے ہاں اسے بڑی مقبولیت بھی ہے تو افادۂ عام کی غرض سے اس کا آسان فہم‘ سلیس اور با محاورہ اردو ترجمہ کیا گیا ہے اور دو عظیم کتب کا اس میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مسلمانوں کو فرقہ بندی کے چنگل سے آزاد کر کے قرآن وسنت اور سلف صالحین کے منہج کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب خالص توحید اور نجات پانے والی شخصیات پر ہے۔ اس میں حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ نجات یافتہ کون؟ ‘‘ محمد بن جمیل زینو﷾ اور ابو اسامہ سلیم بن عید الہلالی﷾ کی تالیف کردہ ہے۔آپ دونوں حضرات تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )