اِسلامی نظریے کی ایک خصوصیت اُس کی ہمہ گیری اور جامعیت ہے۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے۔ اِسلام کی جامع رہنمائی اخلاقِ فاضلہ کی بلندیوں کی طرف اِنسان کو لے جاتی ہے اور بارِ امانت کا حق ادا کرنے کے لیے اس کو تیار کرتی ہے ۔ اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کا اہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبے اسلام کے نزدیک اہم ہیں، خاندانی نظام، معاشرتی روابط ، معاشی تگ و دو، سیاست و حکومت، صلح وجنگ، تہذیب وتمدن، ثقافت و فنونِ لطیفہ اور تعلیم وتربیت سب پر اسلام نے توجہ کی ہے۔ اِسلام کی دعوت سامنے آجانے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکولرزم کس بات کا علمبردار ہے اور وہ اِنسانوں کے سامنے کیا پیغام پیش کرتا ہے؟ آج کل بحث وگفتگو میں سیکولرزم کی اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے۔یعنی ’’سیکولرزم ایسا نظریہ ہے جو اِس دنیا کے معاملات سے بحث کرتا ہے اور روحانیت یا تقدس سے عاری ہے۔ یہ مذہب یا مذہبی عقیدے سے کوئی سروکار نہیں رکھتا‘‘۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلام اور سیکولرزم‘‘ مصنف یوسف القرضاوی نے ایک عام فہم اور پرزور اسلوب میں اسلامی ریاست کی وکالت، اس کے خدوخال کی وضاحت اور سیکولرزم کے تصور کی نفی کی ہےجس کے تحت اسلام کو ریاستی امور سے بے دخل قرار دیا جاتا ہے۔ بنیادی طور یہ کتاب عربی زبان میں ہے مگرکتاب کا موضوع اور اس کی علمی حیثیت کی بنا پراس کتاب کو اردو قالب میں محترم ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی نے انجام دیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین ( پ،ر،ر)