کتاب استثناء18:18 کی ایک بشارت ہے کہ جس کی پیش گوئی حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے ذریعے کی گئی ہے۔جس میں ہےکہ ’’میں ان کےلیے ان ہی کے بھائیوں میں تیری مانند ایک نبی پیدا کروں گا ۔‘‘اس بشارت کو اہل علم نے ’’مثیل موسیٰ،مانند موسی‘‘ کا عنوان دیا ہے۔تین آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے مابین کئی صدیوں سے یہ مقدمہ چلا آرہا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق کون ہے ؟یہودی کہتے ہیں کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ،عیسائی کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام اور مسلمانوں کا دعویٰ یہ ہےکہ مثیلِ موسیٰ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ماضی میں اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ذاکر نائیک اور دیدات نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ نبوت محمدﷺ کے بارے میں ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں محمدﷺاور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان یکساں باتوں کی ایک فہرست(حضرت عیسیٰ المسیح کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں ایک جامع قانونی ضابطہ لے کر آئے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں ایک فطری باپ سے پیدا ہوئے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام دونوں شادی شدہ تھے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں اپنے لوگوں کے سیاسی راہنما تھے۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں سے کہا گیا کہ وہ اُس وقت سے مہینوں کا حساب رکھیں۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورموسیٰ دونوں کو اپنے دشمنوں کی وجہ سے بھاگنا پڑا اور اپنے سُسرکے ہاں پناہ لینی پڑی۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں نے عام انسانوں کی مانند وفات پائی۔) بھی مرتب کی ہے مولانا خاور رشید بٹ صاحب نے زیر نظر کتاب ’’مانند موسیٰ علیہ السلام کون؟‘‘ میں عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مانند موسیٰ یا مثیل موسیٰ سے مراد سیدنا محمد ﷺ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ہذا کی تحقیقی وتصنیفی اور دعوتی وتدریسی جہود کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)