قیام اللیل کا مطلب عشاء کی نمازِ فرض کے علاوہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرنا ہے ۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے اس عبادت کا غالب حصہ نمازتہجد سے ہے ۔ لہٰذا تہجد اور قیام اللیل دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف کےطور پر قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔اور رمضان کی راتوں کا یہی وہ قیام ہے جسے تراویح بھی کہا جاتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے رمضان البارک میں قیام کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔ ارشا د نبوی ہے : «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»لیکن دور حاضر میں قیام اللیل جیسی عظیم نفلی عبادت کو شب بیداریوں کی رنگا رنگ اقسام اختیار کرکے اسے رواجی چیزوں کی گرد سےدھندلا دیاگیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ قیام اللیل اور مروجہ شب بیداریاں‘‘ میں محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ نے کوشش کی ہے کہ قیام اللیل کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیاجائے اور رواجی چیزوں کی گرد کوالگ کرکے یہ دکھایا اور بتایا جائے کہ اس وقت کی مروجہ شب بیداریوں میں قرآن وسنت کے مطابق کیا ہے اور کیااس کے مطابق نہیں ہے۔تاکہ خلوص اور زندہ جذبے کے ساتھ اس عبادت کوادا کرنے والے لاعلمی میں غلط کو صحیح سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں تو اس سے بچ کر قیام اللیل کے مقاصد ،منافع اور فوائد کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
There are no reviews for this eBook.
٠
٠ out of 5
(٠ User reviews )