قرأت قرآن کے وقت اور دوران نماز بعض جگہوں پہ مقتدی قرآن کی بعض آیات کا جواب دیتے ہیں ، اور بعض جگہ یہ عمل نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں یہ بات جاننے کی فکر رہتی ہے کہ صحیح کیا ہے ؟ قرآنی آیات کا جواب دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟ اور احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دوران نماز آیت رحمت پڑھتے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو جہنم سے پناہ مانگتے ، کیا اس حدیث کے پیش نظر سامعین پر ضروری ہے کہ بعض قرآنی آیات کا جواب دیں جیسا کہ ہمارے ہاں نماز با جماعت میں امام جب سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتا ہے تو مقتدی بآواز بلند سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہیں، اسی طرح کچھ دیگر آیات کا بھی مقتدی حضرات جواب دیتے ہیں۔ان تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے زیرنظر کتاب ’’قرآنی آیات کا جواب ، نماز اور غیر نماز میں‘‘ مرتب کی ہے۔اس میں انہوں نے قرآنی آیات کے جواب سے متعلق وارد تمام صحیح روایات یکجا کر کے انہیں دو اقسام میں تقسیم کیا ہے ، پہلی قسم ان روایات کی ہے جن میں عمومی طور پر جواب دینے کی بات ہے۔اور دوسری قسم ان روایات کی ہے جن میں خاص خاص آیات کے جواب میں مخصوص کلمات کہنے کی بات ہے نیز ہر روایت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کس کا تعلق دوران نماز سے ہے اور کس کا تعلق غیر نماز کی حالت سے ہے۔ مقتدی کے لئے جواب دینے کے حکم پر الگ سے مفصل بحث موجود ہے (م۔ا)