جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل مین شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں جہاد جاری رہا اس وقت تک اسلام کاغلبہ کفار پر پوری آب و تاب سے قائم تھا جونہی مسلمانوں نےاپنی بداعمالیوں اور تعیش پرستی کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا تو ذلت و مسکنت ان کا مقدر بن گئی۔ اور آج عالم اسلام کی حالت زار سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔کفار ملت واحد بن کر بھیڑیوں کی طرح اہل اسلام پر ہر طرف سےجھپٹ رہے ہیں اور اُمت مسلمہ دشمن اسلام کے لگائے ہوئے گھاؤ سے گھائل جسم لئے ہوئے سسکیاں لے رہی ہے۔یقیناً جہاد جسےنبیؐ نے اسلام کی چوٹی کہا ہے جب تک اس علم کو تھاما نہیں جاتا ۔مسلمانوں کے ذلت و رسوائی اور مسکنت کے ادوار ختم نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ اللہ کے کلمے کو قائم کرنے کے لیے جہاد فی القتال کی جو اہمیت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے حضور اکرم ﷺ نے جہاد فی السیف یعنی جہاد فی القتل کی ناصرف ترغیب دی ہے بلکہ اس کے لیے بڑی زبردست خوشخبریاں بھی سنائیں ہیں اور قرآن میں جابجا مسلمانوں کو کفار کے ساتھ فیصلہ کن لڑائی کے لیے جہاد القتل کا ناصرف حکم دیا گیا ہے بلکہ اس سے پہلو تہی کرنے والوں کو سخت تنبیہات بھی کی گئیں ہیں اور شہدا کی جو اہمیت اور منازل ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہیں وہ بلاشبہ قابل توجہ و قابل تقلید ہیں۔ اسی طرح جہاد کے شامل شہدا میں سے ان کے درجات بھی بڑے بلند فرمائے گئے ہیں جو جہاد سے متعلق کاموں یعنی مسلمانوں کے علاقوں، مسلمانوں ان کے مال اور ان کے اسباب اور ان کے گھروں کی بھی نگرانی و حفاظت پر معمور ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فضائل جہاد‘‘ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی ہے ۔جس میں جہاد کی فصیلت میں چالیس احادیث ذکر کی گئی ہیں، جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ، صحیح بخاری اور پھر صحیح مسلم سے لی گئی ہیں۔اور ہر ایک حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد اور نکات کو بھی ذکر کیا ہے۔نیز اجادیث کے ذکر سے قبل، موضوع کی مناسبت سے چند قرآنی آیات سے کتاب کا آغاز کیا گیا ہے۔جہاد کی فضیلت، اہمیت اور فرضیت کےبارے میں یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے۔امید ہے یہ کتاب علمی ثقاہت کے قابل اعتبار اور منفرد حیثیت اختیار کرے گی۔ اللہ ذوالجلال صاحب کتاب کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین طالب دعا: پ،ر،ر