سید ابو الاعلیٰ مودودی کا مخصوص نظریہ حدیث


By Al Noor Softs
Posted on Dec 21, 2024
In Category Worship and matters
Authors حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
Published By ناشر : حدیث پبلیکیشنز، دہلی
In Year 2016
Key Word حدیث رسول اللہﷺ اورمودودی کاذوق سلیم..جرح وتعدیل کےانسانی معتبر ذرائع
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 137
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے فتاویٰ جات کو بطور سند علمی حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم اسلام میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا مسئلہ پیش ہوتا تو آپ فوراً قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمادیتے آپ کو قرآن وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور سنت کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات حدیث کے سلسلہ میں ایک علمی تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار حدیث کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء حق نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ عبداللہ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت اہل حدیث کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو انڈیا میں حدیث پبلی کیشنز،دہلی نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی
Ratings Read Downloads
(٠)   74   17
 
 

متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے فتاویٰ جات کو بطور سند علمی حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم اسلام میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا مسئلہ پیش ہوتا تو آپ فوراً قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمادیتے آپ کو قرآن وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور سنت کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات حدیث کے سلسلہ میں ایک علمی تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار حدیث کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء حق نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ عبداللہ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت اہل حدیث کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو انڈیا میں حدیث پبلی کیشنز،دہلی نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks