سماع موتی


By Al Noor Softs
Posted on Dec 21, 2024
In Category Hadith & science of hadith
Authors حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
Published By ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور
In Year 2016
Key Word خلاف قیا س بات اپنے محل پر بندر رہتی ہے..کسی امر کوعبادت قرار دینا شارع کاکام ہے
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 197
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے کا مسئلہ شرک کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
Ratings Read Downloads
(٠)   77   13
 
 

دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks