انسان کی ان بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے جو انسان کو معاشرے کے آغاز سے ہی درکار ہیں۔ سچ تو یہ کہ یہ ضرورت ہی حضرت ِ انسان کی پہلی ضرورت تھی ۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ کی تخلیق کی ، ان میں روح پھونکی تو حوا کی صورت میں ان کی اس معصوم خواہش کو پورا کردیا ۔اس سب سے پہلے انسانی تعلق کے بعد انہیں جنت جیسا بے مثال گھر دیا گیا۔ ہبوط دنیا سے لے کر آج تک یہ سلسلہ چل رہا ہے او رتاقیامت چلتا رہےگا۔انسان کی یہ ضرورت کسی دور میں بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے والدین کے کسی کو صر ف اتنا کہہ دینے سے پوری ہوجاتی تھی کہ فلاں بیٹا یا فلاں بیٹی میری ہے ۔ اور مناسب موقع پر منگنی یانکاح کے ذریعے بات پکی کر لیتے ۔دور حاضر میں پرانی اقدار دم توڑ رہی ہیں ۔مادیت بلند معیارِ زندگی اور حصول تعلیم نے نکاح کا معیار بھی بدل دیا ہے ۔ ہرکام کاروباری انداز اختیار کر گیا ہے ۔ ہر انسان مصروف ہے اس لیے رشتوں کی تلاش کےلیے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں ۔اور اخبارات ورسائل میں ضرورت رشتہ ، تلاش رشتہ، شتہ مطلوب ہے کے نام سے اشتہارات ایک عام معمول ہے ۔اس کے باوجود رشتوں کی تلاش دورحاضر کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ یقینا اسلامی تعلیمات سے دور ی ہے ۔ زیر نظر کتاب’’رشتے کیوں نہیں ملتے ؟‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے ہمارے معاشرے میں رشتوں کے حوالے پائی جانے والی ، رکاوٹو ں اور مشکلات اور مصائب کو بیان کرکے شریعت اسلامیہ میں موجود انتخاب رشتہ اور شادی بیاہ کی تعلیمات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے ۔عائلی معاملات کی اصلاح کےلیے اس کا مطالعہ مفید ہوگا ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا )