آج ملتِ اسلامیہ اپنی تاریخ کے انتہائی نازک ترین دَور سے گزر رہی ہے۔ طاغوتی طاقتیں اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت اسے صفحۂ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کے لئے صف آراء ہو رہی ہیں۔ آج قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ کے فرزندوں میں نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر ان کی ملّی وحدت کے عظیم الشان قصر میں نقب لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ علاقائی عصبیتوں کو اچھال اچھال کر انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا جا رہا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’حرم کی پاسبانی ‘‘معروف کالم نگار محترم جناب عطاء محمد جنجوعہ صاحب کے ان مضامین کی کتابی صورت ہے جو وقتاً فوقتاً وطن عزیز کے مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔انہوں نے اس کتاب میں مستند حوالوں اور اعداد و شمار کے ساتھ چشم کشا اور قابل تفکر حقائق بیان کیے ہیں اور عمدگی کے ساتھ قارئین کو سمجھایا ہے کہ مسلمانوں پر ایک صدی سے بیتنے والی درد انگیز بپتا کا واحد علاج اب سوائے احیائے خلافت اسلامیہ کے اور نہیں ہے ۔کیونکہ ایک خلیفہ اور پرچم کے تحت ہی ملت اسلامیہ اب اپنا آپ منوا سکتی ہے اور مغرب کے مدمقابل کھڑی ہو سکتی ہے۔(م۔ا)