شاتم رسول کی سزا کے بارے سب سے پہلے مفصل اور مدلل کلام امام ابن تیمیہ ؒ نے اپنی کتاب ’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘ میں کیا ہے۔ امام صاحب کے اس کتاب کے لکھنے کا سبب ایک نصرانی تھا جس نے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ یوں تو عربی زبان میں اس موضوع پر اور بھی کئی کتب موجود ہیں لیکن اردو میں اس پر مواد کافی کم تھا۔ مولانا محمد علی جانباز صاحب نے اس موضوع پراپنی کتاب میں عوام الناس کی معلومات کے لیے بہت سا مواد آسان فہم انداز میں جمع دیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عصر حاضر میں مغرب میں اللہ کے رسول ﷺ اور قرآن کی اہانت کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں۔ مغرب کی نقالی میں اب مسلمان ممالکمیں موجود سیکولر عناصر اور غیر مسلموں نے بھی اس بارے اپنی زبان دراز کرنا شروع کر دی ہے جیسا کہ سلمان رشدی ، عاصمہ ملعونہ اور راجپال جیسوں کی مثالیں واضح ہیں۔حال ہی میں گورنر پنجاب کے قتل اور حکومت پاکستان کی طرف سے توہین رسالت کی سزا کے ملکی قانون میں تبدیلی کے اقدامات نے اس بات کی ضرورت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی تھی کہ اس مسئلہ کو اجاگر کیا جائے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی یا آپ کو گالی دینے یا آپ پر کیچڑ اچھالنے کی سزا اور حد شریعت اسلامیہ میں قتل مقرر کی گئی ہے اور اس سے کوئی بھی گستاخ بری الذمہ نہیں ہے۔شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز کا شمار معاصر کبار علمائے اہل الحدیث میں ہوتا ہے۔ ۱۹۵۸ء میں آپ نے جامعہ سلفیہ ، فیصل آباد سے اپنی تدریس کا آغا ز کیا۔اس کتاب کے علاوہ آپ کی معروف کتابوں میں ’سنن ابن ماجہ‘ کی عربی شرح ’انجاز الحاجۃ‘ کے نام سے ہے۔
There are no reviews for this eBook.
٠
٠ out of 5
(٠ User reviews )