کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور اہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، مولانا محمود الحسن، مولانا مرتضی حسن وغیرہ علماء دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین نتائج سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)