قرآن کریم اللہ کہ وہ مقدس کتاب ہے جس کی خدمت باعثِ خیر وبرکت اور ذریعۂ بخشش ونجات ہے ۔یہی وجہ ہےکہ قرونِ اولیٰ سے عصر حاضر تک علماء ومشائخ کے علاوہ مسلم معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اصحاب بصیرت نے حصول برکت کی خاطر اس کی کسی نہ کسی صورت خدمت کی کوشش کی ہے ۔اہل علم نے اگر اس کے الفاظ ومعانی ،مفاہیم ومطالب ،تفسیر وتاویل ،قراءات ولہجات اور علوم قرآن کی صورت میں کام کیا ہے تو دانشوروں نے اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ،کاتبوں نے مختلف خطوط میں اس کی کتابت کی ،ادیبوں اور شاعروں نےاس کے محامد ومحاسن کواپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کی خدمت کی اور واعظوں اور خطیبوں نے اپنے وعظوں اور خطبات سے اس کی تعریف اس شان سے بیان کی کہ ہر مسلمان کا دل ا س کی تلاوت ومطالعہ کی جانب مائل ہواا ور امت مسلمہ ہی نہیں غیر مسلم بھی اس کی جانب راغب ہوکر اس سے منسلک ہوگئے ۔ بعض اہل علم وقلم نے اس کے موضوعات ومضامین پر قلم اٹھایا ااور بعض نے اس کی انڈیکسنگ اور اشاریہ بندی کی جانب توجہ کی ۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ برصغیرمیں مطالعہ قرآن ‘‘ بھارت کی مائہ ناز عالمی شہرت کی حامل شخصیت محترم جناب محمد رضی الاسلام ندوی ﷾کے چندمقالات کا مجموعہ ہے۔ انہوں نےاس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کرکے قرآن فہمی کے میدان میں ماضی قریب کے بعض علمائے ہند کی کاوشوں کا جائزہ ومطالعہ پیش کیا ہے۔باب اول میں سیر سید احمد خاں کی تفسیر القرآن اور مابعد تفاسیر پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے ۔ باب دوم میں بیسوی صدی میں عربی میں تفسیر وعلوم قرآنی کے میدان میں ہونے والے کام کاتعارف کرایا ہے۔اور بیسویں صدی میں لکھی جانے والی تفاسیر میں حروف مقطعات کے مباحث پر روشنی ڈالی ہے ۔ باب سوم میں چند مشہور علماء کرام کی خدمات تفسیر کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔ چوتھے باب میں قرآنی موضوعات پر گزشتہ دودہائیوں میں شائع ہونے والی بعض اہم تصانیف کا جائزہ لیا ہے ۔(م۔ا)