ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اُس کا شرعی حل
| By |
Al Noor Softs
|
| Posted on |
Sep 21, 2024 |
| In Category |
Hadith & science of hadith
|
| Authors |
حافظ صلاح الدین یوسف
|
| Published By |
ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور |
| In Year |
2011 |
| Key Word |
مردکا حق طلاق اور اس کے آداب..حکمین (دو ثالث) مقرر کرنے کی تلقین |
| Target Reader |
Muslim |
| Book Edition |
First Edition |
| Number of Pages |
241 |
| Book Language |
Urdu, Arabic |
| Country Origin |
Pakistan |
خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح وطلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں ا س فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعت اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل ومنطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔اہل الحدیث کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں جبکہ حنفی مفتیان کرام ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حل حلالہ بتلاتے ہیں جس کے لیے کئی ایک حنفی جامعات اور دارالعلوم اپنی خدمات اس معاشرے میں پیش کر رہے ہیں ۔ بعض حنفی علماء نے حلالہ کی اس قبیح رسم کی بجائے حنفی علماء اور عوام کو اس مسئلے میں اہل الحدیث کے مسلک پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ وہ کتاب وسنت کے دلائل پر مبنی ہے ۔ حنفی علماء میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عبد الحلیم قاسمی، مولانا پیر کرم شاہ ازہری اور مولانا حسین علی واں وغیرہ کاموقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں عالم عرب کے جید علماء میں سے سید رشید رضا، شیخ جمال الدین قاسمی، ڈاکٹر وہبہ الزحیلی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، شیخ الأزہر محمود شلتوت اور سید سابق مصری وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔بلکہ کئی ایک مسلمان ممالک میں تو تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے کے بارے قوانین بھی نافذ ہوئے ہیں مثلاًمصر میں ۱۹۲۹ء ، سوڈان میں ۱۹۳۵ء، اردن میں ۱۹۵۱ء، شام میں ۱۹۵۳ء، مراکش میں ۱۹۵۸ء، پاکستان میں ۱۹۶۱ء اور عراق میں ۱۹۰۹ء اس بارے کچھ قوانین نافذ ہوئے ہیں۔بعض حنفی علماء یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے پر اجماع ہے۔ اس اعتراض کا جواب بھی تفصیل سے اس کتاب میں دیاگیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جمہور علماء کا موقف یہی رہا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی لیکن صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ سلف کے دور میں ہر صدی میں ایسے جید علماء اور فقہاء موجود رہے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کوایک ہی شمار کرتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں مولانا صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورتی سے اس مسئلے کا شرعی حل اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اب حنفی عوام اپنے مفتیان کرام پر چیخ رہے ہیں اور ببانگ دہل یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حلالے کا حل بتلانے سے بہتر ہے ہمارا سر پھوڑ دو لیکن خدا راہ ہمیں حلالے کی طرف نہ ڈالو۔ ایسے میں اس طرح کے پریشان حنفی عوام کے سامنے کتاب وسنت کی روشنی پر مبنی یہ تحقیقات رکھنی چاہییں تاکہ وہ اپنی زندگی کتاب وسنت کے مطابق کر تے ہوئے فقہی جمود پر مبنی بوجھوں سے اپنی گردنیں آزاد کروا سکیں۔
| Ratings |
Read |
Downloads |
|
(٠)
|
165
|
38
|