"تقدیر" کائنات میں ہونے والے تغیرات کے متعلق اللہ کی طرف سے لگائے گئے اندزاے کا نام ہے، یہ تغیرات پہلے سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتے ہیں، اور حکمتِ الہی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:اول: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔دوم: اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ سوم: اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الٰہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چہارم: اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انسان اور قسمت ‘‘ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سےنویں کتاب ہے۔مسئلہ تقدیر کیا ہے ؟ ہے تقدیر پر ایمان لانے کامطلب کیا ہے ؟ کیا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے؟ کیاانسان اپنی تقدیر کے بارے پیشگی معلومات حاصل کرسکتا ہے؟ تقدیر پر ایمان کے بعدعملی جدوجہد کی ضروت کیوں باقی رہتی ہے ؟ اس کتاب میں ان تمام سوالات کا قرآن وسنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں ایک عمدہ تجزیاتی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اورایمان بالتقدیر کی ضرورت واہمیت پر صحیح اسلامی نقطۂ نظر واضح کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کا و ش کو قبول فرمائے اور اسے لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)