اسلام اور جدید معیشت وتجارت


By Al Noor Softs
Posted on Nov 17, 2024
In Category Arguments
Authors محمد تقی عثمانی
Published By ناشر : مکتبہ معارف القرآن کراچی
In Year 2019
Key Word ..حکومت وکلیسا کی آویزشدنیاوی اور ظاہری امور پر توجہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 218
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اُصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اُصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔اسلامی نظامِ معیشت کے ڈھانچے کی تشکیل نو کا کام بیسویں صدی کے تقریبا نصف سے شروع ہوا ۔ چند دہائیوں کی علمی کاوش کے بعد 1970ءکی دہائی میں اس کے عملی اطلاق کی کوششوں کا آغاز ہوا نہ صرف نت نئے مالیاتی وثائق ،ادارے اور منڈیاں وجود میں آنا شروع ہوئیں بلکہ بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے غیر سودی بنیادوں پرکاروبار شروع کیے۔بیسوی صدی کے اختتام تک اسلامی بینکاری ومالکاری نظام کا چرچا پورے عالم میں پھیل گیا ۔اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت ‘‘ پاکستان کی مشہورومعروف شخصیت مولانا مفتی تقی عثمانی ﷾ کے ان دروس کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے تقریباً پچیس سال قبل ’’ مرکز الاقتصاد الاسلامی،کراچی ‘‘ کے زیر انتظام پندرہ روزہ کورس میں ملک بھر کےممتاز دینی اداروں کےاستاتذہ کرام ، مفتی حضرات اور اہل علم کے سامنے پیش کیے ۔مولانا تقی عثمانی صاحب کے ان دروس کو مفتی محمد مجاہد صاحب(استاذ حدیث جامعہ امدایہ ،فیصل آباد) نے ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے تیار کیا ہے جس پر مولانا تقی عثمانی صاحب نے نظر ثانی کر نے کے علاوہ مناسب ترمیم واضافہ بھی کیا ہے ۔اس کتاب کے اہم عناوین یہ ہیں ۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے اصول ،اشتراکیت ،معیشت کے اسلامی احکام ،مختلف نظامہائے معیشت میں دولت کی پیدائش اور تقسیم ، کاروبار کی مختلف اقسام ،بازار ِ حصص،شیئرز کی خرید وفروخت کا طریق ِکا ر اور اسی شرعی حیثیت، کمپنی کی شرعی حیثیت اور اس کے چند جزوی مسائل ، نظام زر، کاغذی نوٹ کی شرعی حیثیت اور اس کے فقہی احکام،بینکاری،سودی بینکاری کا متبادل نظام ،غیر مصرفی مالیاتی اداروں کا شرعی حکم ، بیمہ؍انشورنش وغیرہ ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(٠)   119   21
 
 

اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اُصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اُصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔اسلامی  نظامِ معیشت کے ڈھانچے کی تشکیل نو کا کام بیسویں صدی کے تقریبا نصف سے شروع ہوا ۔ چند دہائیوں کی علمی کاوش کے بعد 1970ءکی دہائی میں  اس کے عملی اطلاق کی کوششوں کا آغاز ہوا نہ صرف نت نئے مالیاتی وثائق ،ادارے اور منڈیاں وجود میں آنا شروع ہوئیں بلکہ بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے غیر سودی بنیادوں پرکاروبار شروع کیے۔بیسوی صدی کے  اختتام تک اسلامی بینکاری ومالکاری نظام کا چرچا پورے  عالم میں پھیل گیا ۔اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں  بیان کردیے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم  اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور  کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے  ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی  ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت ‘‘ پاکستان کی مشہورومعروف شخصیت  مولانا مفتی  تقی عثمانی ﷾ کے  ان دروس کی کتابی صورت  ہے جو انہوں نے  تقریباً پچیس سال قبل ’’ مرکز الاقتصاد الاسلامی،کراچی ‘‘ کے زیر انتظام پندرہ روزہ کورس میں  ملک بھر  کےممتاز دینی  اداروں  کےاستاتذہ کرام ، مفتی حضرات  اور اہل علم  کے سامنے پیش کیے ۔مولانا تقی عثمانی صاحب  کے ان دروس کو مفتی محمد مجاہد  صاحب(استاذ حدیث جامعہ امدایہ ،فیصل آباد) نے  ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے تیار کیا ہے جس پر  مولانا  تقی عثمانی صاحب نے  نظر ثانی  کر نے کے علاوہ  مناسب  ترمیم واضافہ بھی کیا ہے ۔اس  کتاب کے  اہم  عناوین یہ  ہیں ۔  سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے اصول ،اشتراکیت ،معیشت کے اسلامی احکام ،مختلف نظامہائے معیشت میں دولت کی پیدائش اور تقسیم ، کاروبار کی مختلف اقسام ،بازار ِ حصص،شیئرز کی خرید وفروخت  کا طریق ِکا ر اور اسی شرعی حیثیت، کمپنی  کی شرعی حیثیت اور اس کے چند جزوی مسائل ، نظام زر، کاغذی نوٹ کی شرعی  حیثیت اور اس کے فقہی احکام،بینکاری،سودی بینکاری کا متبادل نظام ،غیر مصرفی مالیاتی اداروں کا شرعی حکم ، بیمہ؍انشورنش وغیرہ ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks