Hadith & science of hadith - eBooks

384 Results Found
حضرت میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی حیات و خدمات

Authors: عبد المعید مدنی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی ﷫(1805۔1902ء) برصغیر پاک وہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہیں۔ آپ نے سولہ برس کی عمر میں قرآن مجید سورج گڑھا کے فضلا سے پڑھا، پھر الہ آباد چلے گئے جہاں مختلف علما سے مراح الارواح، زنجانی، نقود الصرف، جزومی، شرح مائۃ عامل، مصباح ہزیری اور ہدایۃ النحو جیسی کتب پڑھیں اور ۱۲۴۲ھ میں دہلی کا رخ کیا وہاں مسجد اورنگ آبادی محلہ پنجابی کٹرہ میں پانچ سال قیام کیااور دہلی شہر کے فاضل اور مشہور علما سے کسب ِفیض کیا۔ آخری سال ۱۲۴۶ھ میں ان کے استادِ گرامی مولانا شاہ عبدالخالق دہلوی﷫ نے اپنی دختر نیک اختر آپ کے نکاح میں دے دی۔میاں صاحب نے شاہ محمد اسحق محدث دہلوی ﷫سےبھی بیش قیمت علمی خزینے سمیٹے۔ جب حضرت شاہ محمد اسحق دہلوی شوال ۱۲۵۸ھ کو حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اپنے تلمیذ ِرشید حضرت میاں صاحب کو مسند ِحدیث پر بیٹھا کر گئے بلکہ تعلیم نبویؐ اور سنت ِرسول اللہؐ کے لئے انہیں سرزمین ہند میں اپنا خلیفہ قرار دیا ۔ عالمِ اسلام بالخصوص برصغیر کے مختلف علاقوں او رخطوں کے بے شمار تلامذہ کو آپ سے فیض یابی کا شرف حاصل ہوا۔میاں صاحب کی وفات کو 114؍سال بیت چکے ہیں ۔آپ کی حیات و خدمات کے حوالے اب تک متعد د کتب اور سیکڑوں مضامین لکھ جاچکے ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ ’’حضرت میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ حیات وخدمات‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔یہ کتابچہ دراصل فضیلۃ الشیخ عبد المعید عبد الجلیل المدنی حفظہ اللہ کےجمعیت اہل حدیث،دہلی کے زیر اہتمام سید نذیر حسین محدث دہلوی کے متعلق مارچ 2017ء میں منعقدہ دوروزہ انٹرنیشنل سیمینار میں پیش کئےگئے خطبۂ صدارت کی کتابی صورت ہے۔(م۔ا)

قرآن اور بائبل کے دیس میں حصہ اول

Authors: محمد مبشر نذیر

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں ۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔(م۔ا)

گلدستہ احادیث

Authors: خالد عبد اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’گلدستہ احادیث‘‘ محترم خالد عبد اللہ ﷾کی کاوش ہے۔جو کہ 15 مختلف اور انتہائی اہم موضوعات کےتحت صرف بخاری ومسلم سے لی گئی حدیث مبارکہ کا دل نشیں مستند مجموعہ ہے۔ صاحب کتاب نے اسے پندراہ ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ہرحدیث کی تخریج وترتیب بڑے خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔موصوف اس کے علاوہ 8 کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام کوششوں کوقبول فرماکر دنیا وآخرت میں انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ آمین ( م۔ا)

حفاظ احتسابی ڈائری

Authors: خالد عبد اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جس کا ایک ایک لفظ فصاحت و بلاغت کا آئینہ دار ہے۔ قرآن کریم کا بے تکلف طرز تخاطب انسان کے عقل و شعور کو جھنجوڑتا اور اللہ تعالیٰ کی بندگی پر آمادہ کرتا ہے۔ جو شخص قرآن مجید کو حفظ کرنے کے بعداس پر عمل کرتا ہے اللہ تعالی اسے اجر عظیم سے نوازتے ہیں ۔اور اسے اتنی عزت وشرف سے نوازا جاتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کو جتنا پڑھتا ہے اس حساب سے اسے جنت کے درجات ملتے ہیں ۔سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : صاحب قرآن کوکہا جا ئے گا کہ جس طرح تم دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے آج بھی پڑھتے جاؤ جہاں تم آخری آیت پڑھوگے وہی تمہاری منزل ہوگی ۔(ترمذی: 2914 ) حفظ قرآن مجید کی اسی فضیلت واہمیت کے پیش نظر بے شمار مسلمان بچے اس سعادت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں اور متعدد ادارے قرآن مجید حفظ کروانے کے عظیم الشان مشن پر عمل پیر اہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " حفاظ احتسابی ڈائری "محترم خالد عبد اللہ صاحب کی تصنیف ہے جو دراصل حفظ کرنے والے چھوٹے بچوں کی تربیت اور احتساب کی غرض سے تیار کی گئی ایک ڈائری ہے جس میں وہ اپنے یومیہ سنائے جانے والے سبق،سبقی ،منزل اور نمازوں کی حاضری درج کرتے ہیں اور روزانہ اپنے استاد کو چیک کرواسکتے ہیں۔اس سے ہر طالب علم کا ایک مرتب ریکارڈ تیار ہو جاتا ہے اور ان کی اصلاح کرنا آسان ہو جاتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کو قرآن مجید حفظ کروانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

عظمت حدیث (عبد الغفار حسن مدنی)

Authors: عبد الغفار حسن

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام ﷢ نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا۔ زیر نظر کتاب ’’عظمت حدیث ‘‘ مولانا عبد الغفار حسن رحمانی ﷫‘‘ کی تالیف ہے یہ کتاب حدیث اور علومِ حدیث کے تعارف تدوین وحفاظت اور اسلام میں اس کی حجیت واستنادی حیثیت، نیز اس بارے میں پیش کردہ شکوک وشبہات اور مغالطوں کے ازالے پر گرانقدر علمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں مولانا عبد الغفار حسن  کے علاوہ مولانا عبد الجبار عمر پوری، مولانا حافظ عبد الستار حسن عمرپوری اور مولانا ڈاکٹر صہیب حسن﷾ کے مقالات بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کوجنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے ۔آمین(م۔ا)

معیاری خاتون

Authors: عبد الغفار حسن

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام نے تقسیم کاری کے اصول پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ وہ گھر میں رہتے ہوئے اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض ہے کہ وہ معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے اسلامی تعلیمات کا جاننا از بس ضروری ہے ۔اور امر میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا بہن اپنے گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’معیاری خاتون‘‘مولانا عبد الغفار حسن ﷫(1913۔2007ء) کے معیاری خاتون کے عنوان پر ماہنامہ عفت،لاہور کے 1955ء۔1956ء کے شماروں میں بالاقساط شائع ہونے والے مضامین کی کتاب صورت ہے ۔ جس میں مصنف موصوف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےخواتین کے لیے کن صفات کو پسند کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ نے خواتین کے لیے کیا کیا ہدایات دی ہیں اور خو د اپنے اور ازواج مطہرات کے اسوہ کی شکل میں کن اخلاقی بلندیوں کی طرف رہنمائی فرمائے ہے ۔اس کامختصر تذکرہ مصنف نے اس کتاب میں عام فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔مصنف کتاب مولانا عبد الغفار حسن رحمانی عمر پوری ؒ خانوادہ عمر پور، مظفر نگر یو پی سے تعلق رکھنے والے معروف محدث تھے ۔آپ ہندوستان ، پاکستان اور سعودی عرب کی معروف جامعات سے منسلک رہے ۔ آپ کے تلامذہ میں دنیا بھر کے معروف علمائے دین شامل ہیں ، اسی لیے آپ کو بجا طور پر استاذالاساتذہ کہا جاتا ہے۔ معروف اسلامی اسکالرز ڈاکٹر صہیب حسن (لندن) ، ڈاکٹر سہیل حسن (مدیر سہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد)حفظہما اللہ ان ہی کے صاحبزادگان ہیں۔اللہ تعالیٰ مولانا عبدالغفار حسن ﷫ کےمیزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے اور ان کی تمام تدریسی وتصنیفی اور تبلیغی خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

سبیل الرشاد فی تحقیق تلفظ الضاد ( جدید ایڈیشن )

Authors: قاری محمد شریف

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

تلاوت ِقرآن کا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا اورسیکھنا علم ِتجوید کہلاتا ہے ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے ۔ کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس کاحکم ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور فن تجویدکوطالب تجوید کےلیے آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے طالب علم کو کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہےعلم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی ایک طویل فہرست ہے اور تجوید وقراءات کے موضوع پرماہرین تجوید وقراءات کی بے شمار کتب موجود ہیں جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔حتیٰ کہ اب تجویدی مصاحف نے قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنا مزید آسان کردیا ہے۔علم تجوید میں حرف ضاد کا مخرج طویل ہونے کی وجہ سے اس کا تلفظ ایک مشکل ترین تلفظ سمجھا جاتا ہے ۔ازروئے ادا بھی یہ حرف اتنا مشکل ہے کہ عوام تو کیا بہت سے خواص بھی اس کو کماحقہ ادا کرنے سے قاصر ہیں س لیے اہل علم نے حرف ضاد کی ادائیگی کے متعلق اپنی اپنی آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سبیل الرشاد فی تحقیق تلفظ الضاد " شیخ القراء والمجودین محترم قاری محمد شریف ﷫ کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے ضاد کے صحیح اور درست تلفظ پر اظہار خیال کیا ہےاور ان تمام غلط فہمیوں کودور کرنے کی امکانی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے اصل حقیقت کے سمجھنے میں الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں ۔ شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ مؤلف مرحوم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافہ فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

المقدمہ الجزریہ

Authors: قاری محمد شریف

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی و اردوزبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر متعدد اہل علم نے اس کی شروح اور تراجم کیے ہیں ۔زنظر کتاب علم تجوید کے دو معروف رسالے ’’ المقدمۃ الجزریۃ‘‘ از علامہ محمد بن محمد الجز ری الشافعی ،تحفۃ الاطفال از علامہ سلیمان بن حسین بن محمد الجمروزی﷫ پر مشتمل ہے ۔ شیخ القراء قاری محمدشریف ﷫ نے طلباء کی آسانی کے لیے مذکورہ دونوں رسائل کا سلیس ترجمہ کر کے انہیں یکجا شائع کیا ہے۔صفحہ 9 تا16 مقدمہ جزریہ کا صرف عربی متن ہے۔ صفحہ 17 سے صفحہ 65 تک مقدمہ جزریہ کے اشعار کا عربی متن مع سلیس اردو ترجمہ ہےاور اس کےبعد علامہ جزری کے مختصر حالات زندگی قلمبند کیے گئے ہیں ۔صفحہ 67 سے آخرتک علامہ جمروزی کےرسالہ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ کابمع عربی متن اردو ترجمہ ہے۔طلباء تجوید مقدمہ جزریہ کے ساتھ اگر صرف اکسٹھ اشعار پر مشتمل ’’تحفۃ الاطفال‘‘ بھی یاد کرلیں گے تو علم میں ایک قیمتی اضافے کےعلاوہ اذہان وطبائع میں انشراح بھی پیدا ہوگا اور طلباء ان اشعار کو مزے مزے لے لے کر پڑھیں گے ۔(م۔ا)

کلام نبوی ﷺ کی صحبت میں

Authors: خرم مراد

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ جس نے نبیﷺ کی صحبت پائی‘ آپﷺ کو دیکھا‘ آپ کے ارشادات کو سنا اور آپﷺ کا کلام اس سے مس کر گیا‘ اس کی مشت خاک کو اس پارس نے سونے ہمالیہ بنا دیا۔ آپﷺ کی صحبت کے برابر کوئی درجہ نہیں لیکن آپﷺ کی براہ راست صحبت کی سعادت تو اب کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ آپﷺ کو دیکھنے والوں میں تو وہ بھی تھے جنہوں نے آپﷺ کا انکار کیا اور جہنم کے مستحق ہوئے مگر ہمیں اللہ نے آپﷺ پر ایمان کی عظیم نعمت سے نوازا فللہ الحمد...لیکن آپﷺ کے کلام کی صحبت میں اپنی زندگی کے لمحات بسر کر لینا آج بھی ممکن ہے اور ایک عظیم سعادت ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی نبیﷺ کی مجلسوں کی تشریح وتعبیرات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان اسباق کا مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً عوام کو دیے گئے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہم اپنی عملی زندگی میں کلام نبویﷺ سے فیض حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی اصلاح وتربیت کے لیے اس کو مفید پائیں گے۔اس کتاب کے آخر میں اشاریہ بھی دیا گیا ہے اور اشاریے میں حروف تہجی کی بجائے موضوعات کا تعین کرتے وقت کتاب کی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ موضوع کے بعد جلی ہندسہ کے طور پر صفحہ نمبر درج ہے اور اس کے بعد مذکورہ باب میں حدیث کا نمبر شمار ہے۔ یہ کتاب’’ کلام نبویﷺ کی صحبت میں ‘‘ خرم مراد کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )