Hadith & science of hadith - eBooks
384 Results Found
من اطیب المنح فی علم المصطلح سوالاً جواباً
Authors: عبد المحسن العباد
جس طرح عربی زبان کو جاننے کے لیے گرائمر کا سمجھنا ازحد ضروری ہے اسی طرح حدیث شریف میں مہارت حاصل کرنے کےلیے اُصولِ حدیث میں دسترس رکھانا لازمی ہے ۔اُصول حدیث سے مراد ایسے قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ایسا ضروری علم ہے جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔انہی کتبِ اُصول حدیث میں سب سے زیادہ مختصر ، جامع اور آسان ترین کتاب من أطیب المنح فی علم المصطلح ہے ۔یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسرشیخ عبد المحسن العباد اور عبد الکریم المرام کی مرتب شدہ ہے اُصول حدیث میں یہ مختصراور جامع ترین کتاب ہےیہی وجہ کہ یہ اکثر مدارس و جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے ۔اس کتاب کو پڑھ کر اصول حدیث کی وافر معلومات سے آگاہی ہوجاتی ہے ۔مختلف اہل علم نے اس کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے ۔ زیر نظر سوالاً جواباً اردو ترجمہ مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (متعلّم مدینہ یونیورسٹی ) کی اہم کاوش ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے لہذااس کوسمجھنے کے لیے یہ سوالاً جواباً اردو ترجمہ طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ موصوف نے دلچسپ ودلنشین انداز میں دل ودماغ میں اتر جانے والے سوال وجواب کی صورت میں یہ ترجمہ کیا ہے ۔ جس سے طلبہ وطالبات کے لیے اصل کتاب کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔ موصوف نے کتاب ہذا کے علاوہ شرح مائۃ عامل اور اطیب المنح ، ہدایۃ النحو، الفوز الکبیر،نحو میر کی بھی سوالاً وجواباً تسہیل کی ہے جس سے طلباء کے لیے ان دقیق کتب کو سمجھنا نہایت آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اوران کی زندگی اور علم وعمل میں برکت فرمائے اور انہیں اس میدان میں مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔۔(آمین) (م۔ا)
شرح حدیث جبریل ( تصحیح شدہ جدید ایڈیشن )
Authors: عبد المحسن العباد
یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔(ف۔ر)
من اطیب المنح فی علم المصطلح
Authors: عبد المحسن العباد
علم حدیث سے مراد ایسے قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں۔جس طرح گرائمر کے بغیر عربی زبان سمجھنا دشوار ہے بعینہٖ علم حدیث میں مہارت تامہ ، اصول حدیث میں کماحقہ دسترس رکھے بغیر ناممکن ہے ۔ اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ان میں سے سب سےمختصر ، جامع اور آسان شیخ عبد الکریم مراد ،شیخ عبد المحسن العباد کی مرتب شدہ زیر تبصرہ کتاب ’’ من اطیب فی علم المصطلح‘‘ ہے یہ کتاب اپنی افادیت واہمیت کے باعث مدینہ یونیورسٹی اور پاک وہند کے اہم مدارس میں شامل نصاب ہے ۔یہ چونکہ عربی زبان میں ہے جس عام آدمی مستفید نہیں ہوسکتا تھا۔اسی ضرورت کے پیش نظر محترم مولانا خاور رشید بٹ ﷾(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ودارالعلوم المحمدیہ ،لاہور ) نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔مترجم موصوف نے عربی عبارت کو مد نظر رکھتے ہوئے بے حد آسان اور عام فہم وبامحاورہ ترجمہ کا التزام کیا ہے اور ہر بحث سے پہلے مفردات باب کے نام سے مشکل الفاظ کے معانی وصیغے حل کیے ہیں،طلباء کےلیے مشقی سوالات مختلف انداز میں ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ طلبہ اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔(م۔ا)
شرح حدیث جبریل
Authors: عبد المحسن العباد
یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔
- Featured
احادیث صحیح بخاری ومسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش
Authors: ارشاد الحق اثری
صحیح بخاری و صحیح مسلم سے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کے بعد یہ صحیح ترین کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے بارے علمائے امت کا یہ حکم بلاوجہ نہیں ہے احادیث کا اکثر و بیشتر ذخیرہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے دور میں مشہور تھا اسی ذخیرہ سے انہوں نے صحیح احادیث پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔ ایک ایک حدیث اور ہر ایک کی سند کی خوب چھان پھٹک کی، خوب تحقیق و تدقیق کے بعد صحت کا یقین ہوا تو اپنی کتب میں درج کیا۔ اس کے بعد سیکڑوں محدثین کی نظریں ان پر مرتکز رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کو امت مسلمہ سے تلقی بالقبول حاصل ہوا۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے درایت و عقل کے حوالے سے صحیح احادیث کے رد کرنے کا شاخسانہ کھڑا کیا تو کسی نے صحیح بخاری و مسلم پر بلا جواز عمل جراحی کا شوق پورا فرمایا۔ اس بہتی گنگا میں مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی نے بھی ہاتھ دھونا اپنا فرض سمجھا انہوں نے ’مذہبی داستانیں‘ نام سے کتاب لکھی جس میں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث پر شدید نکتہ چینی کی بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو نامکمل کتاب قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امت مسلمہ کا اسے حدیث کا صحیح ترین مجموعہ قرار دینا بھی محض ایک مذہبی داستان ہے۔ اس کےعلاوہ بہت صحابہ کرام کے حوالہ سے بھی اوٹ پٹانگ باتیں لکھیں۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی اسی کتاب کے جواب میں وجود میں آئی ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ایک صاحب علم شخصیت اور حدیث و اصول حدیث کا خاص ذوق رکھتے ہیں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان احادیث کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا ہے جن پر ’مذہبی داستانیں‘ میں تنقید کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ الکتاب میں کاندھلوی صاحب کی کتاب کا ایک طائرانہ جائزہ بھی پیش کر دیا گیا ہے جس سے مصنف کاندھلوی صاحب کی ’قیمتی‘ نگارشات کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔(ع۔م)
مشاجرات صحابہ ؓ اور سلف کا موقف
Authors: ارشاد الحق اثری
صحابہ کرامؓ کی عظمت کیلئے یہ بات ہی کافی ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ان کو اس دنیا میں ہی اپنی رضا و خوشنودگی کی خوش خبری سنا دی تھی۔ قرآن کریم نے بھی ان کو ’’خیر امت‘‘ اور ’’امت وسط‘‘ سے تعبیر کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دشمنان اسلام نے بھی صحابہ کرام کی نفوس قدسیہ کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ زیر نظر کتاب محقق عالم دین ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی ایک علمی و تحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے صحابہ کرامؓ کا بھرپور دفاع کرت ہوئے اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنے باہمی مشاجرات و اختلافات کے باوجود عادل و صادق ہیں۔ امت کے ھدی خواں ہیں اور تمام سلف کا بھی یہی موقف ہے۔ اِس کتاب میں قابل مصنف نے یہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے کہ تمام اہل سنت اور سلف امت کے نزدیک مشاجرات صحابہؓ کا حکم کیا ہے تاکہ عامۃ الناس اسے پڑھ کر صحابہ کرام کے بارے اپنے عقائد و نظریات کی اصلاح کر سکیں اور اس طرح کی مباحث و مسائل کو زیر بحث لانے سے گریز کریں جو مشاجرات صحابہ و اختلافات صحابہ پر مشتمل ہوں۔ کتاب میں قدیم و جدید علماء عرب و عجم کے ان اقوال، آراء اور فتاویٰ کا بیان ہے جو مشاجرات صحابہ سے متعلق ہیں۔ کتاب ہذا میں طوالت کے خدشہ کے تحت مقامِ صحابہ، عدالت صحابہ اور سبّ صحابہ کے متعلقات و مباحث پر قصدًا چھوڑ دیا گیا ہے۔ صرف مشاجرات صحابہ کے حوالے سے ائمہ و فقہاء کے اقوال و آراء اور فتاویٰ جات کو نقل کیا گیا ہے۔ کتاب خاص علمی تناظر میں لکھی گئی ہے۔ جو قابل مطالعہ اور لائق تعریف ہے۔(آ۔ہ)
پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث
Authors: ارشاد الحق اثری
اس کتاب میں مصنف ارشاد الحق اثری صاحب نے پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث کو بیان کیا ہے جس میں انہوں نے بے شمار جید علماء اہلحدیث کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ برصیغر میں اسلام کی آمد کیسے ہوئی , حدیث سے بے اعتنائی کے چند واقعات کو بیان کرتے ہوئے چند رجال حدیث کا بھی ذکر کیا ہے جس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ , شاہ اسماعیل شہید ؒ , عبد الغزیز ؒ , مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری ؒ , مولانا شمس الحق محدث ڈیانوی ؒ مولانا وحید الزمان خاں ؒ , حضرت نواب صدیق الحسن خاں قنوجی ؒ اور اہلحدیثوں کے تدریسی مراکز , اکابرین دیوبند کا انداز تدریس , حدیث کی تعلیم اشاعت میں روکاٹ , دیوبند کا اساسی مقصد , علمائے اہلحدیث کا طریقہ درس , علمائے اہلحدیث کی خدمات کا اعتراف اور اس کی تحسین , اہلحدیثوں کی تصنیفی خدمات , خدمات علمائے غزنویہ کو بیان کرتے ہوئے موصوف نے بے شمار کتب حدیث کا تعارف کرایا ہے جس میں صحیح بخاری , صحیح مسلم , سنن نسائی , سنن ابی داؤد , جامع ترمذی , سنن ابن ماجہ , مؤطا امام مالک جیسی بے شمار کتب کا تعارف کروایا ہے اس کتاب کے مطالعہ سے علمائے اہل حدیث کی حدیث وسنت سے محبت اور اس کی تبلیغ واشاعت کا جذبہ نکھر کرسامنے آتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدمت حدیث اہل حدیث کا طرۂ امتیاز ہے
احادیث صحیح بخاری و مسلم میں پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ
Authors: ارشاد الحق اثری
يورپ کے مستشرقین کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوچکے ہیں جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش ہیں-کبھی تدوین حدیث کے عمل کو تیسری صدی ہجری کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی صحابہ کرا م کی احتیاطی تدابیر کو بنیاد بنا کر حدیث میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-اس سلسلے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا-اسی سلسلے کی ایک کڑی مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ''مذہبی داستانیں'' ہے-جس میں صحیح بخاری ومسلم کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے محدثین کرام اور بعض صحابہ کرام بالخصوص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین وغیرہ شامل ہیں، کے بارے میں اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا گیا - زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے خالص علمی اور تحقیقی انداز میں تمام اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ان تمام روایات کا دفاع کیا ہے جن کو '' مذہبی داستانیں'' میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے-
توضیح الکلام فی وجوب القراۃ خلف الامام
Authors: ارشاد الحق اثری
نماز سے متعلقہ مسائل میں ایک اہم اختلافی مسئلہ فاتحہ خلف الامام یعنی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا ہے۔ اس موضوع پر فریقین کی بیسیوں کتب موجود ہیں۔ فاتحہ خلف الامام کا انکار کرنے والوں کی طرف سے اس سلسلے کی جامع کتاب "احسن الکلام" شائع ہوئی ہے۔ جس کا کچھ جواب "خیر الکلام" میں حافظ محمد گوندلوی صاحب نے بخوبی دیا ہے۔ لیکن "احسن الکلام" کے نئے ایڈیشن میں "خیرالکلام" پر بھی اعتراضات کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "توضیح الکلام" اسی "احسن الکلام" کے محدثانہ جائزے اور تنقید متین پر مشتمل ہزار سے زائد بڑے سائز کے صفحات پر پھیلی ہوئی ایک بے مثال علمی و تحقیقی دستاویز ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں ٹھوس علمی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں اور امام، مقتدی اور منفرد سب کیلئے یہی حکم ہے۔ دوسرے حصے میں مانعین کے دلائل کو محدثانہ نقد و نظر کی کسوٹی پر رکھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مؤلف احسن الکلام نے اپنے مؤقف کو سنبھالا دینے کیلئے جو تاویلات فاسدہ کی ہیں، شاذ اقوال کا سہارا لیا ہے اور علمی خیانتوں کا ارتکاب کیا ہے، تدلیس و تلبیس اور دجل و فریب سے بھی دامن وابستہ رکھا ہے، فاضل مصنف شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اپنے تعقبات میں ان پر ہر پہلو سے بڑی مدلل گفتگو بلکہ سخت گرفت کی ہے اور کوئی اہم و غیر اہم گوشہ تشنہ بحث نہیں رہنے دیا۔ بلاشبہ فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر یہ کتاب ایک بحر زخار ہے۔ ممکن ہے کہ ٹھوس علمی گفتگو کو عام قارئین سمجھنے میں دقت محسوس کریں لیکن سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ کتاب و سنت ڈاٹ کام ٹیم اپنے قارئین کو یہ کتاب خریدنے، پڑھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی پرزور اپیل کرتی ہے۔