Hadith & science of hadith - eBooks
384 Results Found
الحکمہ احادیث مبارکہ کا دلنشین مجموعہ
Authors: شیخ عمر فاروق
اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے ۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے ۔احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے ۔اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل راہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الحکمۃ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔احادیث مبارکہ یہ دلنشیں مجموعہ شیخ عمر فاروق ﷾ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب در اصل ہفت روزہ ’’الاعتصام ‘‘ میں شیخ عمر فاروق کے درس حدیث کے نام سےچھپنے والے مضامین کا مجموعہ جو انہوں مولانا عطاء اللہ حنیف کی ترغیب پر الاعتصام میں شروع کیے ۔ بعدازاں انہوں نے ان مضامین کو نئے سرے کمپوز کروا کر’’الحکمۃ‘‘کے نام شائع کیا ۔ اس کتاب کا ایک حصہ عبادات اور دوسرا حصہ معاملات واخلاقیات پر مشتمل ہے۔ مرتب موصوف کی اس کتاب کے علاوہ ’’ الفرقان‘‘ اور ’’شریعتِ اسلامیہ کے محاسن‘‘ کے نام سےبھی دو کتابیں قیولیت عامہ کا درجہ حاصل کرچکی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو صحت وتندرستی والی زندگی عطا فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)
پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ
Authors: ڈاکٹر سید تنویر بخاری
سیاسی جماعت اس تنظیم کو کہتے ہیں جو بعض اصولوں کےتحت منظّم کی جائے اور جس کا مطمح نظر آئینی اور دستوری ذریعوں سے حکومت حاصل کر کے ان اصولوں کو بروئے کار لانا ہو جن کی غرض سے اس جماعت کو منظّم کیا گیا ہو۔ پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔پاکستان میں اس وقت بیسیوں سیاسی جماعتیں موجود ہیں ۔ پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت مضبوط کرنے کی دعویدار تو ہیں، تاہم ایک آدھ سیاسی جماعت کے علاوہ کوئی ایسی پارٹی نہیں جو اندرونی طور پر جمہوریت پر عمل پیرا ہو۔یہاں ہر سیاسی جماعت کو ایک دوسرے سے مِل کر کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو اکیلے ہی حکومت سازی کر سکے بلکہ صرف مخلوط حکومت ہی ممکن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ‘‘ جناب تنویر بخاری کی مرتب کردہ ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں سیاسی جماعتوں کا بنیادی مقصد اہمیت وضرورت، سیاسی جماعتوں کا ارتقاء، سیاسی جماعتوں کی اقسام ،برسراقتدار سیاسی جماعتوں کاتعارف اور ان کے منشور کو پیش کرنے کے علاوہ عام سیاسی جماعتوں کا بھی تعارف پیش کیا ہے ۔یہ کتاب نصابی نوعیت کی ہے۔ پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر کی مرتب کردہ کتاب ’’پاکستان کی سیاسی جماعتیں‘‘بھی سائٹ پر موجود ہے یہ دونوں کتابیں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے مفید کتابیں ہے ۔سیاست کے طالب علموں کو ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(م۔ا)
تجارت کے اسلامی اصول و ضوابط
Authors: ڈاکٹر نور محمد غفاری
عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے ، جس طرح عقائد اور عبادات کے بارے میں جزئیات واحکام بیان کیے گئے ہیں ،اسی طرح شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کرنے کا اہتمام کیاہے ، حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ، وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے۔تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت ؍کا روبار اگر اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تجارت کے اسلامی اصول وضوابط‘‘پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری‘‘ (سابق استاذ انٹرنیشنل یونیورسٹی ،اسلام آباد،سابق ممبر قومی اسمبلی ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب اٹھ ابواب پر مشتمل ہے پہلا باب تجارت کے مفہوم اور اس کی اہمیت پر ہے دوسرے باب میں قبل از اسلام عربوں کی تجارتی سرگرمیوں ، قریش کے تجارتی اسفار ، ان کے معاہدات او راس دور کی چند جائز تجارتی شکلوں پر رروشنی ڈالی ہے۔اور مسلمانوں کی تجارتی ترقیات ، ان کی تجارتی گذرگاہوں اور اشاعت اسلام کے لئے ان کی عظمت ِ کردار کے اثرات کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔باب سوم میں تجارت کےاسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں اور باب چہارم بیع کے ا حکام پر مشتمل ہے۔ باب پنجم میں شرکت ومضاربت کے قواعد واصول ،باب ہفتم میں تجارتِ خارجہ ک مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور باب ہشتم میں اموال تجارت کی زکوٰۃ پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔یہ کتاب پہلی بار دیال سنگھ لائبریری،لاہور کی طرف سے 1986ء میں شائع ہوئی ۔ پھر 2009ء میں شیخ الہند اکیڈمی ،کراچی نے شائع کی۔یہ ایڈیشن مصنف کی طرف سے دوبارہ نظرثانی شدہ ایڈیشن ہے ۔ اس ایڈیشن میں بہت سے مقامات پر مصنف نے ضروری تبدیلیوں کےعلاوہ مفید اضافے بھی کیے ہیں اور حوالہ جات کو اصل مصادر سے ملاکر دیکھا اوردرست کیا ہے جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔(م۔ا)
صف بندی کے احکام و مسائل
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
مسنون نماز کے بعض مسائل پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ خصوصیت سے مستحق تھے ۔ انہی مسائل میں سے ایک صفوں کی درستی ’’ تصویۃ الصفوف‘‘ بھی ہے ۔ نماز کے لیے صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے اہم مسائل میں سے ایک ہے جس کے ساتھ اجتماعی زندگی کی بہت سی اقدار وابستہ ہیں۔ احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام کا فرض ہے کہ نماز شروع کرنے سے قبل مقتدیوں کی صف بندی کا جائزہ لے اور اس کی درستگی کے لیے تمام امکانی وسائل استعمال کرے۔ امام تکبیر سے قبل صفوں کو برابر اور سیدھا کرنے کا حکم دے ۔ جب پہلی صف مکمل ہو جائے اور اس میں کسی فرد کے لیے جگہ حاصل کرنے کا امکان نہ ہو تو پھر دوسری صف کا آغاز کیا جائے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’صف بندی کے احکام و مسائل ‘‘علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے علامہ امن پوری حفظہ اللہ نے اس کتاب میں تسویۃ الصفوف کے جملہ احکام و مسائل اور صف بندی کی اہمیت و ضرورت کو احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ سے واضح کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
حجیت حدیث ( امن پوری)
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
حدیث کا انکار کرنے سے قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سے متاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہو کر دائرہ اسلام سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک و ہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اور ردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمد گوندلوی وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ حجیت حدیث کے متعلق تحریر کردہ مختلف مضامین کی کتابی صورت ہے ۔(م۔ا)
خلیفہ بلا فصل
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
اہلِ سنت والجماعت کا اتفاقی واجماعی عقیدہ ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے برحق خلیفہ اور امیر المومنین ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ومناقب ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے محبت عین ایمان اور آپ سے بغض نفاق ہے ۔ اس کے برعکس بعض لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلافصل کہتے ہیں ۔علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب بعنوان’’ خلیفہ بلافصل‘‘ میں محققانہ انداز میں اس بات کو ثابت کیا ہےکہ سیدنا ابو صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے خلیفہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا آپ ﷺ سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اور آپ ﷺ نے وہ صحابہ کرام کو سکھلایا ہو۔درود لکھی ،درود تنجینا،درود ہزاری اور درود تاج جیسےآج کل کے من گھڑت درودوں کی اللہ تعالی ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ یہ اس کے حبیب سے ثابت نہیں ہیں۔علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب بعنوان’’ ذکر مصطفیٰ ﷺ ‘‘ میں درود کے فضائل اور احکام ومسائل قلم بند کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے (م۔ا)
حدیث مصراۃ
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
”مُصَرَّاۃٌ ”سے مراد وہ جانور ہے ، جس کا دودھ اس کے تھنوں میں روک دیا گیا ہو تاکہ دودھ زیادہ نظر آئے۔ اگر کوئی شخص بکری یا اونٹ وغیر ہ کو بیچنے کے ارادے سے خریدار کو دودھ زیادہ باور کروانے کے لیے ایک دو دن تھنوں میں دودھ روکے رکھے تو یہ کام ناجائزو حرام اور دھوکا ہے ، یہ اقدام اس جانور کو عیب دار بنا دیتاہے ، اگر کوئی غلطی سے ایسا جانور خرید لے اور بعد میں اسے پتا چل جائے تو تین دن کے اندر واپس لوٹانے کا مجاز ہے ، لیکن جب جانور واپس لوٹائے گاتو جو دودھ پیا ہے ، اس کے عوض ایک صاع (دو سیر چار چھٹانک) کھجور دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے تو اس کو تین روز تک اختیار ہے چاہے ،تو اس کو رکھ لے یا واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کاا یک صاع بھی دے۔‘‘ (صحیح مسلم : 928) ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ حدیث مصراۃ‘‘علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے انہوں نے اس مضمون میں ’’ بیع مصراۃ کی حدیثِ مصراۃ کی روشنی میں تشریح کردی ہے اور حدیث مصراۃ کی اور مکمل تحقیق وتخریج کوبھی پیش کیا ہے۔نیز بیع مصراۃ کے تفصیلا ًاحکام بیان کردیے ہیں افادۂ عام کے لیے اسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)
ختم نبوت ( امن پوری )
Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری
مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺاللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ ﷺکو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم ﷺکی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیت میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا(الاحزاب، 33 : 40)ترجمہ:’’ محمد ﷺتمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالٰیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خاتم النبیین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو اس منصب پرفائزنہیں کیا جائے گا۔ قرآن حکیم میں متعددآیات ایسی ہیں جو عقيدہ ختم نبوت کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ خود نبی اکرم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ یہی وہ عقید ہ جس پر قرون اولیٰ سے آج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ مولاناغلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری﷾ نے اپنی زیر نظر کتاب ’’ ختم نبوت‘‘مدلل انداز میں میں اس موضوع کوبیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)